Latest National, International, Sports & Business News

بلدیاتی انتخابات فوری ممکن نہیں تو پرانے ادارے بحال کر دیں، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے کنٹونمنٹ بورڈزمیں بلدیاتی انتخابات کرانے کے عدالتی حکم پرعملدرآمد نہ کرنے پر سیکریٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل (ر)آصف یاسین ملک کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کردیا ہے۔ چاروںصوبوں اوراسلام آبادمیں بلدیاتی الیکشن کے مقدمے میں عدالت نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا موقف مستردکرکے انتخابات کے انعقادکے لیے فوری اقدامات کرنے کا حکم دیا ہے اورہدایت کی ہے کہ اگر فوری الیکشن ممکن نہیں تو پرانے بلدیاتی ادارے بحال کردیے جائیں۔چیف جسٹس افتخارمحمدچوہدری کی سربراہی میں 3 رکنی ببنچ نے دونوں مقدمات کی سماعت کی۔کینٹ بورڈالیکشن کیس میں عدالت نے سیکریٹری دفاع سے7 دن کے اندر وضاحت طلب کی ہے کہ دو دفعہ بیان حلفی دینے کے باوجودالیکشن کیوں نہیں کرائے؟ سیکریٹری دفاع سے مزیدوضاحت مانگی گئی ہے کہ5 مئی 2013کے بعد وہ کس اختیار اور قانون کے تحت کنٹونمنٹس کے معاملات چلارہے ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا اگر عدالت کی عزت نہیں رہے گی تو پھر عدالت بھی کسی کی عزت نہیں کرے گی، عدالت نے اپنے حکم کی عدم تعمیل پر ایک وزیر اعظم کو سزا دی ہے ،اگر ملک میں آئین و قانون ہے تو پھر اس پر عمل بھی ہونا چاہیے۔جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا ہم ہر ایک کی عزت کرتے ہیں اور یہ توقع رکھتے ہیں کہ عدالت کے احکامات کی عزت ہو۔چیف جسٹس نے کہا دو دفعہ سیکریٹری دفاع نے بیان حلفی دیا اور یقین دہانی کرائی لیکن حکم پرعمل نہیں ہوا ۔چیف جسٹس نے سیکریٹری دفاع کوطلب کرکے کہا کہ توہین عدالت کارروائی کے بغیر ہمارے پاس کوئی اور راستہ نہیں، دو دفعہ اس کورٹ کے حکم کو پامال کیا گیا۔ سیکریٹری دفاع نے کہاالیکشن سے پہلے اور اقدامات کرنا تھے جس کیلئے حکومت کی منظوری ضروری تھی، چیف جسٹس نے کہا آپ حکومت ہیں۔سیکریٹری دفاع کا کہنا تھا منظوری وزیر اعظم سے لینا ضروری تھی اور سمری بھجوا دی گئی ہے۔عدالت نے اس کیس کی مزید سماعت 25اکتوبر تک ملتوی کردی۔ ملک بھرمیں بلدیاتی الیکشن کرانے کے مقدمے میں فاضل بینچ نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا موقف مستردکرکے فوری طور پر انتخابات کے انعقادکے لیے اقدامات کرنے کا حکم دیا ہے۔عدالت نے کہا کہ اگر فوری الیکشن ممکن نہیں تو پرانے بلدیاتی ادارے بحال کردیے جائیں۔چیف جسٹس نے کہا آرٹیکل 148کو غیر موثرکیا گیا ، بلدیاتی ادارے بحال کریں یا ایڈمنسٹریٹر لگا کر انھیں اختیارات دیے جائیں لیکن آئین کی شق کوفعال کیا جائے ۔عدالت نے کہا بلدیاتی ادارے تحلیل کرنے کے بعدان حکومتوں کے پاس آئین کے آرٹیکل148پر عمل کرتے ہوئے الیکشن کے انعقادکے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ عدالت نے قراردیا آئین سے روگردانی نا قابل قبول ہے، ملک کا ہر شہری اور ادارہ آئین پرعمل درآمدکا پابند ہے۔عدالت نے سیکریٹری الیکشن کمیشن سے وضاحت طلب کی ہے کہ اب تک بلدیاتی انتخابات کے لیے پراسس کیوں شروع نہیں کیا گیا۔عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل شاہ خاورکو ہدایت کی ہے کہ وہ وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی الیکشن کے انعقادکے بارے میں حکومت سے حتمی ہدایات حاصل کریں۔شاہ خاور نے بتایا اسلام آباد میں لوکل باڈی الیکشن قانون کا حتمی مسودہ تیار ہے،کابینہ سے منظوری کے بعدآرڈیننس کے ذریعے نافذکر دیا جائے گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر وفاقی اورصوبائی حکومتیں آئین کے اطلاق کے لیے تیار نہیں تو پھر عدالت یہ کہنے میں حق بجانب ہے کہ ان کے پاس حکو مت کرنے کی کیا اتھارٹی رہ گئی ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ سب نے قسم کھائی ہے کہ آئین کا تحفظ نہیں کرنا،آئین کی ایک شق کی بات نہیں پورے آئین کو نہیں مان رہے ہیں۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ قابل تشویش بات یہ ہے کہ آئین کو نہ ماننے کا طرز عمل ایک منتخب حکومت کا ہے ،ایک طالع آزما کے اس طرز عمل کی تو سمجھ آتی ہے لیکن منتخب حکومت کا یہ طرز عمل سمجھ سے بالاتر ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آئین کا تحفظ تو حکومت کی ذمے داری ہے لیکن وہ توخود خلاف ورزی پر اتری ہوئی ہے،سندھ حکومت کی جانب سے بتایا گیا کہ تمام اقدامات مکمل کرلیے ہیں۔عدالت نے بلوچستان حکومت کی جانب سے کسی کے پیش نہ ہونے کابھی سخت نوٹس لیا ۔مقدمے کی مزید سماعت 14اکتوبر کو لاہور میں رکھی گئی ہے۔

تبصرے بند ہیں.