ڈی آر ایس میں شک کا فائدہ بیٹسمین کو ملنا چاہیے، ٹروٹ
انگلش کرکٹر جوناتھن ٹروٹ نے ڈی آر ایس میں شک کا فائدہ بیٹسمین کو دینے کا مطالبہ کردیا. ان کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کھیل کیلیے فائدہ مند مگر اس میں بہتری کی ضرورت ہے، صرف آن دی فیلڈ امپائرز کی بات رکھنا درست نہیں ہے، ان خیالات کا اظہار انھوں نے میڈیا سے بات چیت کے دوران کیا۔ انگلینڈ میں جاری ایشز سیریز میں ڈی آر ایس کے حوالے سے کافی تنازعات پیدا ہوئے اس کے باوجود میزبان سائیڈ ٹیکنالوجی سے مطمئن ہے اس کی وجہ زیادہ تر فیصلے ان کے حق میں آنا بھی ہے، اس سیریز میں انگلینڈ کو 3-0 کی ناقابل شکست برتری حاصل ہوچکی جبکہ آخری ٹیسٹ بدھ سے اوول میں شروع ہوگا، جوناتھن ٹروٹ کو اس سسٹم سے کئی بارنئی لائف لائن ملی جس کی وجہ سے وہ اس کے حامی ہیں مگر اس میں بہتری کے خواہاں بھی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ میرے خیال میں ڈی آر ایس اچھی چیز ہے، اس وقت یہ سسٹم دباؤ کا شکار ہے، خاص طور پر ایشز سیریز کے دوران اس پر بہت زیادہ اعتراضات سامنے آرہے ہیں، ہمیں اس کے حوالے سے قوانین واضح کرنا چاہئیں، اس بات کا تعین ہونا چاہئے کہ فیصلے کیسے کئے جانے چاہئیں اگر ایسا ہوگا تب پلیئرز اور تماشائیوں کو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا، موجودہ حالت میں یہ شائقین کیلیے ٹینشن کا باعث بنتا اور اس سے کئی ڈرامے سامنے آتے ہیں، مجھے یقین ہے کہ تمام بیٹسمینوں کو اس سسٹم سے کبھی نہ کبھی فائدہ ضرور ہوا ہوگا، میں سمجھتا ہوں کہ یہ سسٹم اتنا برا نہیں ہے، صرف چند ایسی چیزیں موجود ہیں جنھیں واضح کرنے کی ضرورت ہے۔ واضح رہے کہ ایشز سیریز کے دوران امپائرز کی ناقص کارکردگی پر بھی انگلیاں اٹھائی گئیں، پہلے کوئی کلوز فیصلہ ہوا کرتا تھا تو پھر شک کا فائدہ بیٹسمینوں کو دیا جاتا تھا مگر اب ایسا نہیں ہوتا بلکہ کسی نتیجہ پر نہ پہنچ پانے پر تھرڈ امپائر آن فیلڈ آفیشلز کو اپنا فیصلہ سنانے کی ہدایت کرتے اور وہ اپنے ہی فیصلے کو برقرار رکھتے ہیں۔ ٹروٹ کا کہنا ہے کہ کلوز فیصلوں میں بیٹسمینوں کو ہی شک کا فائدہ ملنا چاہئے۔