Latest National, International, Sports & Business News

قاہرہ: پرتشدد واقعات میں 700 سے زائد ہلاکتیں،اخوان المسلمون پر پابندی کا امکان

مصر میں گزشتہ چار روز کے دوران سیکیورٹی فورسز کی جانب سے کی گئی کارروائی میں ہلا کتوں کی تعداد 700 سے تجاو کرگئی ہے جبکہ احتجاج پر قابو پانے کے لئے عبوری حکومت نے اخوان المسلون پر پابندی لگانے پر غور شروع کردیا ہے۔ مصر میں گزشتہ ماہ منتخب صدر محمد مرسی کی برطرفی اور ان کی نظر بندی کے خلاف شروع ہونے والے مظاہرے ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے۔ گزشتہ چار روز کے دوران دارالحکومت قاہرہ سمیت مختلف شہروں میں ہونے والے احتجاج کو دبانے کے لئے سیکیورٹی فورسز کے آپریشنز کے دوران اب تک 700 سے ائد افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوچکے ہیں لیکن فوج اور عبوری حکومت کے خلاف غم و غصہ کم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے مصر کی عبوری کابینہ نے اخوان المسلمون پر ایک بار پھر پابندی عائد کرنے کے لئے غور شروع کردیا ہے۔ قاہرہ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عبوری وزیر اعظم حضیم الببلوی نے کہا کہ اخوان المسلمون مصر میں عوام کو ہنگاموں پر اکسانے اور قتل عام کی ذمہ دار ہے اس لئے ان کا خیال ہے کہ اخوان المسلمون پر ایک مرتبہ پر پابندی عائد کر دینی چاہیئے کیونکہ حکومت اور ریاستی اداروں کے خلاف اسلحے کا استعمال کرنے والوں سے کسی بھی قسم کے مذاکرات نہیں کئے جا سکتے۔ 1954 میں اس وقت مصر کے صدر جمال عبدالناصر نے اخوان المسلمون پر پابندی عائد کردی تھی تاہم 2012 میں حسنی مبارک کی حکومت کے خاتمے کے بعد اخوان المسلمون کے رہنماؤں نے اسے ایک بار پھر غیر سرکاری تنظیم کی حیثیت سے رجسٹرڈ کرایا تھا۔

Comments

comments

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.