برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی کارروائیوں کی وجہ سے شدت پسندوں کے خلاف آپریشن میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
واشنگٹن:برطانوی نشریاتی ادارے کا کہنا ہے کہ ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ واشنگٹن میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے امریکی حکام سے کہا ہے کہ بھارت کی طرف سے سرحدوں پر کارروائی اور سخت بیانات ہماری مہم کو متاثر کر رہے ہیں۔ ’پاکستان ہو یا امریکہ شدت پسند تنظیمیں سب کے لیے خطرہ ہیں۔ اہلكار کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کے دوران دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان فائرنگ کے مختلف واقعات میں بھاری جانی نقصان ہو چکا ہے۔ پاکستان اس حوالے سے بھارت سے سفارتی سطح پر احتجاج بھی کر چکا ہے۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کا پینٹا گون پہنچنے پر باوقار استقبال کیا گیا۔ امریکی فوج کے دستے نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو سلامی دی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے گارڈ آّف آنر کا معائنہ بھی کیا ۔ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف کو توپوں کی سلامی بھی دی گئی۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ڈیمپسی سے ملاقات بھی کی۔ ملاقات میں دو طرفہ امور ، افغانستان میں نیٹو فوج کے انخلا ، دہشت گردی کے خلاف جنگ، پاک افغان اور پاک بھارت سرحدی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ جنرل راحیل شریف نے جنرل ڈیمپسی کو آپریشن ضرب عضب کے حوالے سے آگاہ کیا۔ جنرل ڈیمپسی نے پاک فوج کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور قربانیوں کو سراہا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے ڈپٹی سیکرٹری دفاع رابرٹ ورک اور کمانڈر یو ایس میرینز جنرل جوزف ڈنفولڈ سے بھی ملاقات کی۔ ملاقاتوں میں خطے کی سیکورٹی اور افغانستان کی صورتحال پر بات چیت ہوئی اور پاک امریکہ طویل المدتی تعلقات بھی زیر بحث آئے اور دونوں ممالک کی افواج کے درمیان تعلقات بڑھانے پر غور کیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ کے مطابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو امریکی فوج کی جانب سے ایک پر وقار تقریب میں لیجنڈ آف میرٹ کا میڈل بھی عطا کیا گیا انہیں یہ ایوارڈ جرات مندانہ قیادت، وژن اور خطے میں امن امان کے قیام کی کوششوں پر دیا گیا ہے۔
تبصرے بند ہیں، لیکن فورم کے قوائد اور لحاظ کھلے ہیں.