دریائے چناب میں بڑا سیلابی ریلا ملتان کی طرف بڑھنے لگا، جھنگ میں سرگودھا روڈ پانی میں ڈوب گئی۔ ادھر سیلابی پانی کے باعث پچاسی بستیوں کا دو دن بعد بھی سیالکوٹ سے زمینی رابطہ بحال نہ ہو سکا۔ جھنگ کے قریب دریائے چناب میں پانی کی سطح بلند ہونے مزید علاقوں میں پانی داخل ہو گیا۔ نواحی علاقہ لوہلے والا میں سیلابی ریلا آنے سے پچاس افراد پھنس گئے۔ شہباز شریف نےان افراد کو محفوظ مقام پر پہنچانے کے احکامات جاری کر دیئے۔ دریائے چناب میں ساڑھے چارلاکھ کیوسک کا ریلہ گزرے گا۔ کبیروالہ، شجاع آباد، جلال پور پیروالہ اور علی پور سے لوگ نقل مکانی کر رہے ہیں۔ اوچ شریف میں لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت حفاظتی بند بنا دیئے۔ ملتان کے نواحی علاقے لنگڑیال میں پانی داخل ہونے سے درجنوں بستیاں پانی میں ڈوب چکی ہیں جہاں پاک فوج کے جوان امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔ دریائے چناب کے سیلابی ریلے نے جھنگ کے سو سے زائد دیہات بھی ڈبو دیئے۔ چنیوٹ روڈ اور شاہ جیونہ روڈ پر سنیکڑوں افراد پانی میں پھنسے ہوئے ہیں۔ حافظ آباد میں بھی دریائے چناب کا پانی چالیس سے زائد دیہاتوں میں داخل ہو گیا۔ ان میں سے بیس سے زائد دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا۔ منڈی بہاؤالدین میں سیلابی ریلے سے درجنوں دیہات متاثر ہوئے۔ سیلاب زدہ علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ بہاولپور میں دریائے ستلج کے پانی کی سطح بلند ہورہی ہے۔ ممکنہ سیلاب سے ایک سو اکہتر دیہات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اس وقت ہیڈ سلیمانکی پر 67 ہزار کیوسک پانی کی آمد جبکہ 60 ہزار پانی کا اخراج ہو رہا ہے۔ فلڈ کنٹرول سینٹر کا کہنا ہے طوفانی بارشوں سے ہیڈ پنجند کو خطرات لاحق ہوچکے ہیں۔ ڈیرہ غازی خان میں دریائے سندھ بپھرنے سے سینکڑوں دیہات پانی کی زد میں آ گئے ہیں۔ تونسہ کے مقام پر اگلے 24 گھنٹے میں پانی کا بہاؤ 4 لاکھ 70 ہزار کیوسک ہو گا۔ مظفر گڑھ کے علاقے رنگ پور میں سیلابی ریلے میں دو کم سن بہنیں ڈوب گئیں۔ دونوں کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔ بستیاں خالی کرنے کا حکم دے دیا ہے اور مظفر گڑھ کینال، ٹی پی لنک کینال اور ڈی جی خان کینال کو بند کردیا گیا ہے۔ دریائے سندھ میں تونسہ کے مقام پر پانی کی سطح مسلسل بلند ہورہی ہے جبکہ گڈو بیراج کے قریب درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔ دریائے راوی میں بلوکی کے مقام پر 80 ہزار کیوسک پانی گزر رہا ہے۔ سیلاب سے میلووال، لدھے والہ ورکاں سمیت درجنوں دیہات پانی میں ڈو بے ہوئے ہیں۔ ادھر نالہ ڈیک کی تباہ کاریاں جاری ہیں۔ مرید کے نارووال روڈ ڈوب گئی۔ دریائے توی میں طغیانی سے بجوات اور سیالکوٹ کے کو ملانے والا واحد پل بہہ جانے کے بعد دو دن گزر گئے، پچاسی بستیوں کا سیالکوٹ سے زمینی رابطہ بحال نہ ہو سکا۔ لوگ کشتیوں میں دریا پار کر رہے ہیں۔
تبصرے بند ہیں.