پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن نے کامن ویلتھ گیمز میں قومی ہاکی ٹیم کی شرکت یقینی بنانے کیلیے انتظامی کمیٹی سے مزید ایک ماہ کی مہلت مانگ لی، پی او اے کے صدر لیفٹیننٹ جنرل (ر) سید عارف حسن نے سی ڈبلیو ایف کے چیف ایگزیکٹیو مائیک ہوپر سے بذریعہ ای میل درخواست کی۔ تفصیلات کے مطابق کامن ویلتھ گیمز کے آرگنائزرز عارف حسن کی صدارت میں کام کرنے والی پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کو تسلیم کرتے ہیں، گلاسگو میں آئندہ سال شیڈول ایونٹ میں شرکت کیلیے قومی ہاکی ٹیم کو بھی اسی کے توسط سے نام بھجوانا تھے لیکن پی ایچ ایف حکام کا موقف رہاکہ اسپورٹس پالیسی کے تحت عارف حسن اب پی او اے کے منتخب صدر نہیں ہیں، ان کے ذریعے نام نہیں بھجواسکتے، شرکت ممکن بنانے کیلیے صرف حکومتی ہدیات پر عمل کریں گے، اس ضمن میں پی ایچ ایف کی طرف سے براہ راست شرکت کیلیے آئی ایچ ایف کو لکھا جانے والا خط بھی بے سود ثابت ہوا، نام بھجوانے کی ڈیڈ لائن 16 اگست کو ختم ہوچکی لیکن پی ایچ ایف اپنے موقف پر قائم اور پاکستان کی شرکت پر سوالیہ نشان برقرار ہے۔ اس صورتحال میں پی او اے نے کامن ویلتھ گیمز کی انتظامی کمیٹی سے مزید ایک ماہ کی مہلت مانگ لی، صدر لیفٹیننٹ جنرل (ر) سید عارف حسن نے کامن ویلتھ فیڈریشن کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر مائیک ہوپر کو ای میل کے ذریعے درخواست میں کہاکہ گرچہ پی ایچ ایف کی طرف سے ڈیڈ لائن گذرنے کے باوجود کوئی مثبت جواب موصول نہیں ہوا لیکن ہم اپنے قومی کھیل کی کامن ویلتھ گیمز میں شرکت یقینی بنانا چاہتے ہیں، لہٰذا درخواست ہے کہ ہمیں مزید ایک ماہ کی مہلت دی جائے۔ سید عارف حسن کا کہنا ہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کیلیے یہ آخری موقع ہوگا کہ وہ اس دوران گیمز میں اپنی شرکت کی تصدیق کیلیے نام بھجوانے میں دلچسپی کا اظہار کریں، اس کے بعد گلاسگو ایونٹ کے منتظمین سے مزید مہلت نہیں مانگی جائے گی۔سید عارف حسن نے کامن ویلتھ گیمز فیڈریشن کی انتظامیہ کے نام ای میل میں کہاکہ ان مقابلوں میں پاکستان ہاکی ٹیم کی شرکت کھلاڑیوں کے لیے بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہے، اس سلسلے میں ہم نے ابھی تک جتنی کوششیں کیں کسی کو ان پر شک نہیں ہونا چاہیے، اس کے باوجود بھی اگر ایک ماہ کی مہلت پر پی ایچ ایف اپنی دلچسپی کا اظہار نہیں کرتی تو کامن ویلتھ فیڈریشن اس سلسلے میں جو بھی فیصلہ کرے ہمیں قبول ہوگا۔ سید عارف حسن کامن ویلتھ گیمز ایسوسی ایشن پاکستان کے بھی صدر ہیں، انھوں نے انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کیلی فیئرویدر اور ڈائریکٹر آف اسپورٹس ڈیوڈ لوکیز کو بھی تمام صورتحال سے آگاہ کر دیا ہے۔ عارف حسن نے کہا کہ پی ایچ ایف کے سیکریٹری نے کامن ویلتھ گیمز کی آرگنائزنگ کمیٹی کو خط میں براہ راست شرکت کی درخواست کی تھی،ان کا جواب تھا کہ اگر وہ مقابلوں میں شرکت کرنا چاہتے ہیں تو اپنا کیس پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے ذریعے ہی بھجوائیں۔ انھوں نے کہا کہ میری سمجھ سے بالا ہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن قومی کھیل کے وسیع تر مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے مثبت کیوں نہیں سوچ رہی ہے۔ کامن ویلتھ گیمز میں شرکت سے پاکستانی کھلاڑیوں کو مستقبل میں ہونے والے دیگر بین الاقوامی ٹورنامنٹس کی تیاری کا بہترین موقع میسر آ سکے گا، پی ایچ ایف اپنے خول سے باہر نکل کر قومی کھیل کے مستقبل کا سوچے اور اسے انا کا مسئلہ نہ بنائے۔ سید عارف حسن نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ پلیئرز اور قومی کھیل کے وسیع تر مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے کامن ویلتھ گیمز کی انتظامیہ مزید ایک ماہ کی مہلت دیدے گی، ہماری بھی پوری کوشش ہوگی کہ تمام معاملات خوش اسلوبی سے حل ہو جائیں، پھر بھی ایسا نہ ہو سکا تو انتظامیہ کوئی بھی ناخوشگوار فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔
تبصرے بند ہیں.