کراچی: محکمہ کسٹمز کے وی بوک کلیئرنس سسٹم میں کمرشل امپورٹرز سیلف کلیئرنس کی آڑ میں منظم انداز میں ماہانہ کروڑوں روپے مالیت کی کسٹمزڈیوٹی ودیگرٹیکسوں کی چوری کا انکشاف ہواہے۔ ذرائع نے بتایا کہ کسٹمز کلیئرنس کیلیے محکمہ کسٹمز باقاعدہ لائسنس کا اجراکرتا ہے اور اس لائسنس کے حصول کے بعد ہی سسٹم سے کلیئرنس ممکن ہوتی تھی، اسی طرح سیلف کلیئرنس کے لیے بھی لائسنس صرف ملٹی نیشنل کمپنیوں کو ہی جاری کیے جاتے تھے لیکن کیئر اور وی بوک کے نفاذ میں کمرشل سیکٹر میں عام امپورٹرز کو بغیر کسی لائسنس کے چند ہزار کی مبینہ رشوت کے عوض محض 500 روپے کا پے آرڈر لے کر ’’ آئی ڈی پاس ورڈ ‘‘جاری کر دیا جاتا ہے جبکہ باقاعدہ کلیئرنس لائسنس کے لیے 7 لاکھ 50 ہزار روپے کا سیکیورٹی ڈپازٹ جمع کرانے کی شرط ہے، اس عمل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بدعنوان عناصر کی جانب سے فرضی کمپنیوں کے نام پرماہانہ سیکڑوں درآمدی کنسائنمنٹس کی مس ڈیکلریشن اور انڈر انوائسنگ کے ذریعے سیلف کلیئرنس کرائی جاتی ہے۔ واضح رہے کہ جب ’’آئی ڈی‘‘ جاری کی جاتی ہے تو ٹیکس دہندگان کے بینک کی تفصیلات بھی طلب کی جاتی ہیں لیکن حیرت انگیزامریہ ہے کہ کروڑوں روپے کی ٹرانزیکشن کے باوجود ٹیکس دہندگان کی جانب سے فراہم کردہ بینک اکاؤنٹس میں کوئی ٹرانزایکشن نہیں ہوتی نیز ان کنسائنمنٹس کی کلیئرنس کے لیے ڈیوٹی وٹیکسز کی ادائیگی کیلیے بنائے جانے والے پے آرڈر بھی کمپنی کے بینک اکاؤنٹس سے نہیں بنائے جاتے۔ ذرائع نے بتایا کہ ایک آئٹم کے کنسائنمنٹ کی کلیئرنس ایک جگہ 25 فیصد تو دوسری جگہ 5 فیصد کسٹمز ڈیوٹی کی ادئیگی میں کی جارہی ہے اور یہ تمام تربدعنوانیاں کسٹمز حکام کی ملی بھگت سے کی جا رہی ہیں اور اعلیٰ حکام کی جانب سے کوئی جانچ پڑتال نہیں کی جارہی۔
تبصرے بند ہیں.