ائجیریا میں سرگرم شدت پسند تنظیم بوکو حرام کی قید سے فوجی کارروائی کے دوران آزاد ہونے والی ایک خاتون کا کہنا ہے تنظیم اسلحے کی کمی سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہی ہے
نائجیریا کی فوج نے گذشتہ ہفتے دو الگ الگ کارروائیوں میں سات سو مغویوں کو رہا کروایا تھا۔ ہناتو موسٰی کے مطابق شدت پسند اپنے رہنماؤں سے اسلحہ طلب کرتے ہیں لیکن کمی کی وجہ سے انہیں پریشانی کا سامنا ہے۔ بنتا ابراہیم کا کہنا تھا لڑکیوں کو بوکو حرام کے ارکان سے شادی پر مجبور کیا جاتا تھا اور انکار پر فروخت کر دیا جاتا تھا۔ ایک خاتون کے مطابق جب فوج کے حملے ہوئے تو شدت پسندوں نے ان پر پتھر برسائے اور متعدد کو ہلاک کر دیا۔ –
تبصرے بند ہیں.