Latest National, International, Sports & Business News

فاسٹ بولنگ کے سامنے ہاٹ اسپاٹ ٹیکنالوجی بے اثر

لندن: ہاٹ اسپاٹ ٹیکنالوجی فاسٹ بولنگ کے سامنے ناکام ہوگئی، دھوپ اور بیٹ پر لگے چمکدار اسٹیکرز کی وجہ سے بھی درست اندازہ لگانا مشکل ہوگیا۔ ہاٹ اسپاٹ کے موجد وارین برینن نے سنکومیٹربھی ساتھ استعمال کرنے کا مشورہ دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق ہاٹ اسپاٹ ٹیکنالوجی کے نقائص کے بارے میں کافی عرصے سے باتیں ہورہی تھیں مگر اب اس بات کی تصدیق ہوگئی ہے کہ یہ ٹیکنالوجی فاسٹ بولرز کے سامنے درست کام نہیں کرتی، اس کا اعتراف خود ٹیکنالوجی کے موجد وارین برینن نے کیا ہے۔ ہاٹ اسپاٹ ٹیکنالوجی آسٹریلیا کی بی بی جی اسپورٹس کی مالکیت ہے، اس میں چار کیمرے استعمال ہوتے ہیں، جن کا ایک دن کا خرچہ 7500 پائونڈ ہے۔اس ٹیکنالوجی کی مدد سے گیند بیٹ یا پیڈ سے ٹکرانے کی صورت میں وہاں پر سفید دھبہ نمایاں ہوجاتا ہے مگر اس کا ایک بڑا نقص سامنے آیا ہے یہ فاسٹ بولرز کے سامنے زیادہ بہتر انداز میںکام نہیں کرتی اور اگر دھوپ ہو تب بھی اس بات کا اندازہ کرنا مشکل ہوتا ہے کہ گیند بیٹ سے ٹکرائی یا نہیں تاہم اسپنرز کی سلو ڈلیوریز کے سامنے ہاٹ اسپاٹ بہتر انداز میں کام کرتی ہے۔ وارین برینن کا کہنا ہے کہ بیٹ پر لگے چمکدار اسٹیکرز سے بھی یہ علم نہیں ہو پاتا کہ گیند اس سے ٹکرائی یا نہیں، ہم آئی سی سی کو یہی تجویز دیں گے کہ وہ آسٹریلیا میں سال کے آخر میں شیڈول جوابی ایشز سیریز میں لازمی طور پر سنکومیٹر استعمال کریں، اس سے ہاٹ اسپاٹ ٹیکنالوجی پرفیکٹ ہوجائے گی، یہ فاسٹ بولرز کے سامنے بھی کارآمد ثابت ہوگی کیونکہ اس سے گیند کے بیٹ سے ہلکے ٹکرائو کی آواز بھی صاف سنی جاسکتی اور تھرڈ امپائر صرف 10 سیکنڈ میں یہ آواز سن سکیں گے جس سے انھیں فیصلہ کرنے میں آسانی ہوگی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سنکو میٹر برینن کے پارٹنر ایلن پلاسکیٹ نے لندن میں تیار کیا ہے۔

تبصرے بند ہیں.