Latest National, International, Sports & Business News

امریکا-ایران کا پاکستان پر اعمتاد، آنے والے دنوں میں مذاکرات کی میزبانی کیلئے تیار ہیں، اسحاق ڈار

اسلام آ باد:نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ خطے میں جاری تنازع کے خاتمے اور امن کے لیے پاکستان بھرپور اقدامات کر رہا ہے اور آنے والے دنوں میں اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے، جس کے لیے دونوں ممالک نے اعتماد کا اظہار کیا ہے۔نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے چار فریقی اجلاس سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سعودی عرب، ترکیے اورمصر کے وزرائے خارجہ اسلام آباد میں موجود ہیں اور تینوں وزرائے خارجہ سے دو طرفہ تعمیری ملاقاتیں ہوئی اور تینوں وزرائے خارجہ کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات ہوئی۔انہوں نے کہا کہ وزرائے خارجہ کے دورے کا مقصد پاکستان، سعودی عرب، ترکیے اور مصر کے درمیان مشاورت کا دوسرا اجلاس تھا جو آج اسلام آباد میں ہوا، ہماری پہلی ملاقات 19 مارچ 2026 کو ہوئی تھی۔اسحاق ڈار نے کہا کہ آج چاروں وزرائے خارجہ کے اجلاس میں خطے کی صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور خطے میں فوری طور پر امن قائم کرنے کے طریقوں اور جنگ کے خاتمے کے لیے ممکنہ طریقوں پر بھی بات کی۔ان کا کہنا تھا کہ وزرائے خارجہ نے تشویش کا اظہار کیا کہ جاری تنازع بدترین اثرات کی وجہ سے انتہائی افسوس ناک ہے، جس کے پورے خطے پر جانی اور مالی اثرات پڑے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اتفاق کیا کہ یہ جنگ کسی کے حق میں نہیں ہے، جو صرف تباہی اور نقصان کا باعث ہے اور اس امتحان کے وقت میں مسلم امہ کے درمیان اتحاد انتہائی ضروری ہے۔نائب وزیراعظم نے بتایا کہ میں نے دورے پر آئے ہوئے وزرائے خارجہ کو ایران اور امریکا کے درمیان اسلام آباد میں ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے آگاہ کیا اور انہوں نے اس اقدام کی بھرپور حمایت کا اظہار کیا اور انہوں نے صورت حال کو بہتر کرنے، عسکری کشیدگی روکنے اور متعلقہ فریقین کے درمیان سودمند مذاکرات کے لیے ماحول پیدا کرنے کا اعادہ کیا۔انہوں نے کہا کہ وزرائے خارجہ نے حمایت کی کہ مذاکرات اور سفارت کاری تنازع کو روکنے اور خطے میں امن و بھائی چارے کے لیے واحد راستہ ہے اور ہم نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کے تحت تمام ریاستوں کی خود مختاری اور سرحدی سالمیت کا احترام کیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ وزرائے خارجہ چاروں برادر ممالک کے درمیان باہمی تعاون مزید مضبوط بنانے کے لیے مختلف امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔اسحاق ڈار نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان اپنے علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ رابطے میں ہے اور پاکستان کی امن کی کوششوں کے لیے تعاون پر سعودی عرب، ترکیے اور مصر کے وزرائے خارجہ کا شکریہ ادا کیا۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ ہم اس تنازع کے خاتمے کے مقصد کے لیے تمام تر کوششوں اور اقدامات کے ساتھ بدستور سرگرم عمل رہے ہیں، پاکستان کے امریکا کے ساتھ بھی انتہائی اہم تعلقات ہیں، ہم امریکی قیادت کے ساتھ رابطے میں رہے ہیں جو کشیدگی کے خاتمے اور اس کے پرامن حل کے لیے ہمارے اقدامات کا حصہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس حوالے سے خوشی ہے کہ ایران اور امریکا دونوں نے پاکستان پر اعتماد کیا کہ مذاکرات کے لیے ثالثی کرے۔اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان آنے والے دنوں میں دونوں فریقین کے درمیان جاری تنازع کے جامع اور پائیدار حل کے لیے فیصلہ کن مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ چین کے وزیرخارجہ وانگ یی کے ساتھ بھی تفصیلی بات ہوئی ہے اور چین بھی ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی میزبان کے پاکستانی اقدام کی مکمل حمایت کرتا ہے، اسی طرح اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے بھی تفصیلی بات ہوئی ہے اور انہوں نے بھی امن کے لیے کیے جانے والے پاکستانی اقدام کی مکمل حمایت کا اظہار کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میں نے دنیا کے دیگر کئی ممالک کے ہم منصبوں سے ٹیلی فون پر بات کی ہے جنہوں نے ہمارے اقدامات کی مکمل حمایت اور اعتماد کا اظہار کیا ہے، ہم اپنی کوششیں دیانت داری اور بھرپور عزم کے ساتھ جاری رکھیں گے، جس کے لیے پاکستان کو پوری عالمی برادری کا تعاون درکار ہے تاکہ امن اور مستقل طور پر اس جنگ کا مکمل خاتمہ ہو۔

تبصرے بند ہیں.