امارات، بحرین کے اسرائیل سے معاہدوں پر دست خط ،معمول کے تعلقات استوار

ان معاہدوں سے پورے خطے میں جامع امن کے قیام کی بنیاد پڑے گی،امریکی صدر کا افتتاحی تقریب سے خطاب

واشنگٹن (این این آئی)متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل کے ساتھ وائٹ ہاس میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب میں امن معاہدوں پر دست خط کردیے ۔اس طرح ان دونوں ممالک کے اسرائیل کے ساتھ باضابطہ طور پر معمول کے تعلقات استوار ہوگئے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس تقریب کے میزبان تھے۔ انھوں نے اپنی افتتاحی تقریر میں کہا کہ ان معاہدوں سے پورے خطے میں جامع امن کے قیام کی بنیاد پڑے گی۔اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے بحرینی وزیر خارجہ عبداللطیف الزیانی اور امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید آل نہیان کے ساتھ الگ الگ امن معاہدوں پر دست خط کیے۔ان کے علاوہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی معاہدہ ابراہیم پر دست خط کیے ۔یواے ای ربع صدی کے بعد اسرائیل سے معمول کے تعلقات استوار کرنے والا تیسرا اور بحرین چوتھا ملک بن گیا ۔قبل ازیں عرب ممالک میں سے مصر اور اردن کے اسرائیل کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات استوار ہیں۔ مصر نے اسرائیل کے ساتھ 1979 میں کیمپ ڈیوڈ میں امن معاہدہ طے کیا تھا۔اس کے بعد 1994 میں اردن نے اسرائیل سے امن معاہدے کے بعد سفارتی تعلقات استوار کیے تھے۔تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے شیخ عبداللہ بن زاید آل نہیان نے بنیامین نیتن یاہو کاشکریہ ادا کیا کہ انھوں نے ان کے بہ قول امن کا انتخاب کیا ہے اور وہ فلسطینی علاقوں کو صہیونی ریاست میں ضم کرنے کے منصوبے سے دست بردار ہوگئے۔اس معاہدے کے تحت اسرائیل نے اپنے مقبوضہ مغربی کنارے میں واقع وادیِ اردن اور بعض دوسرے علاقوں کو ریاست میں ضم کرنے کے منصوبے سے دستبردار ہونے سے اتفاق کیا تھا۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ان علاقوں کو صہیونی ریاست میں ضم کرنے کا اعلان کررکھا تھا۔ فلسطینی اسرائیل کے زیر قبضہ غرب اردن اور غزہ کی پٹی پر مشتمل علاقوں میں اپنی آزاد ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں جس کا دارالحکومت القدس ہو۔فلسطینی قیادت اس امن معاہدے کو مسترد کرچکی ہے۔بحرینی وزیر خارجہ عبداللطیف الزیانی نے بھی اپنے ملک کے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کو سراہا اور اس کو امن کی جانب پہلا اہم قدم قرار دیا ہے۔انھوں نے کہا کہ یہ اب ہماری ذمے داری ہے کہ ہمیں اپنے عوام کو ایسا امن وسلامتی مہیا کرنے کے لیے فوری طور پر اور فعال انداز میں کام کریں جس کے وہ حق دار ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی ، اسرائیلی تنازع کا ایک جامع منصفانہ حل ہی اس قسم کے امن کی بنیاد ہوسکتا ہے۔میزبان صدر ٹرمپ نے اپنی تقریر میں یہ بھی انکشاف کیا کہ پانچ یا چھے مزید ممالک اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات استوار کرنے کی راہ پر ہیں۔

تبصرے بند ہیں.