Latest National, International, Sports & Business News

پی سی بی عمر اکمل کے مسئلے کو غلط رنگ نہ دے، عامر سہیل

کراچی: سابق ٹیسٹ کپتان عامر سہیل نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ عمر اکمل کے مسئلے کو غلط رنگ نہ دے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر تیزی سے اُبھرتے ہوئے بیٹسمین کا معاملہ ٹھیک طرح نہ سلجھایا گیا تو وہ اسکواڈ میں مستقل جگہ گنوا سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ عمر اکمل کو ویسٹ انڈیز میں مبینہ طور پر اچانک مرگی کا دورہ پڑا تھا، وہ وہاں پاکستان کا ٹور ختم ہونے کے بعد کیریبیئن لیگ میں بارباڈوس کی نمائندگی کر رہے تھے، پی سی بی نے میڈکل رپورٹس ملنے پر23 سالہ کھلاڑی کو زمبابوے کے دورے سے علیحدہ کردیا تھا۔ سینٹرل کنٹریکٹ یافتہ پلیئر ہونے کے ناطے عمراکمل کا لاہور میں ایک نیورولوجسٹ سے معائنہ بھی کرایا گیا، ٹیم کے اگلے مصروف شیڈول کو مدنظر رکھتے ہوئے بورڈ مطمئن ہونا چاہتا ہے کہ وہ100 فیصد فٹ ہیں یا نہیں۔نیورولوجسٹ نے عمر کے مزید ٹیسٹ کیلیے کہا اور رپورٹ ملنے کے بعد وہ ان کا دوبارہ معائنہ کریں گے۔ بیٹسمین نے کسی بھی بیماری میں مبتلا یا ان فٹ ہونے کے تاثر کو مسترد کیا ہے۔1996 سے 1998 تک 22 ایک روزہ میچز میں پاکستان کی قیادت کرنے والے عامر سہیل نے کہا کہ مرگی کوئی خطرناک مرض اور بڑا مسئلہ نہیں، کرکٹ میں کئی پلیئرز اس بیماری میں مبتلا ہیں لیکن اس سے ان کے کیریئر پر کوئی اثر نہیں پڑا، خبر رساں ایجنسی سے بات چیت میں انھوں نے مزید کہاکہ ڈاکٹرزکے مشورے سے اگر مناسب اقدامات اٹھائے جائیں تو غیر خطرناک مرگی کی بیماری کا علاج ہوسکتا ہے۔ 1990 میں سری لنکا کے خلاف انٹرنیشنل ڈیبیو کرنے والے عامر کا کہنا ہے کہ جنوبی افریقہ کے سابق بہترین بیٹسمین اور فیلڈر جونٹی رہوڈز بھی اس بیماری میں مبتلا تھے لیکن اس نے ان کے کیریئر پر کوئی بُرا اثر نہیں ڈالا، انھوں نے کہا کہ پی سی بی عمر اکمل کے مسئلے کو غلط طریقے سے سلجھانے کی کوشش نہ کرے کیونکہ اس سے ان کا کیریئر تباہ ہوجائے گا، عمر ایک بہت باصلاحیت بیٹسمین اور اسے ابھی کرکٹ میں بہت عرصے تک موجود رہنا ہے۔ عامر نے یاد دلایا کہ عمر کا ڈیبیو جولائی 2009 میں سری لنکا کی سیریز میں ہوا تھا جس میں انھوں نے دوسرے میچ میں ففٹی اور اگلے ہی میچ میں سنچری اسکور کی جس پر انھیں کیریئر کا پہلا مین آف دی میچ ایوارڈ ملا تھا۔ انھوں نے مزید کہاکہ عمر اکمل ایک اچھا پرفارمراور مجھے دورئہ زمبابوے میں اس کی بہت کمی محسوس ہورہی ہے۔

تبصرے بند ہیں.