پی سی بی کے ردعمل نے سابق کپتان راشد لطیف کو چراغ پا کر دیا، سابق ٹیسٹ کپتان نے کہا ہے کہ میں بھارتی بکی انو بھٹ کو بورڈکی جانب سے مہمان بنائے جانے کے بیان پر قائم ہوں۔ اس حوالے سے مجھے خاموش رہنے دیا جائے توبہتر ہوگاکیونکہ یہ ملک کی عزت اور وقار کا سوال ہے،اگر پی سی بی اس حوالے سے مجھے عدالت میں لانا چاہے تو اس کے لیے تیار ہوں،تمام ثبوت فراہم کر دوںگا۔ گفتگو کرتے ہوئے سابق وکٹ کیپر نے کہا کہ میں اپنے کہے ایک ایک لفظ پرقائم ہوں، پی سی بی نے عجلت میں جاری شدہ تردیدی بیان کے ذریعے مجھے جذباتی کرنے کی کوشش کی لیکن میں جذبات میں نہیں آئوں گا، انھوں نے کہا کہ مجھے خاموش ہی رہنے دیا جائے تو بہتر ہوگا،میں اپنے موقف اور بیان پر قائم ہوں،بورڈ کی جانب سے رد عمل میرے لیے حیرت کا باعث نہیں مگر جن الفاظ کا انتخاب کیا گیا وہ حدود سے تجاوز ہیں۔راشد لطیف نے کہا کہ اگر اس ضمن میں پی سی بی چاہے تومجھے عدالت لے جائے، میں اس کے لیے تیار ہوں، میں اس معاملہ میں میڈیا وار میں شامل نہیں ہونا چاہتا لیکن سچائی کی خاطرکسی بھی حد تک جائوں گا، انھوں نے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ بھارتی بکی انو بھٹ پی سی بی کے مستقل مہمان کی حیثیت سے پاکستان کے دورے کرتا رہا اور میں اپنے اس بیان کے ایک ایک لفظ کی سچائی پر قائم ہوں۔ یاد رہے کہ راشد لطیف نے الزام عائد کیا تھا کہ 2005-06 کے دوران بھارت اور انگلینڈ سے ہوم سیریز کے مواقع پربھارتی بکی انو بھٹ پاکستان میں پی سی بی کا مہمان رہا،اس نے دیگر مواقع پر بھی بورڈ کے مہمان کی حیثیت سے پاک سرزمین کے دورے کیے۔
تبصرے بند ہیں.