پاکستان اور نیپال نے تجارتی و اقتصادی شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کے لیے دوطرفہ دوستانہ تعلقات کو بروئے کار لانے پر اتفاق کیا ہے۔ اس حوالے سے پاکستان اور نیپال کے مشترکہ اقتصادی کمیشن کا چھٹا اجلاس پیر کو اسلام آباد میں ہوا۔ پاکستانی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار اور ان کے نیپالی ہم منصب شنکر پرساد کوئرالہ نے مشترکہ اقتصادی کمیشن کے اجلاس کی صدارت کی۔ اس موقع پر وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور نیپال کے مشترکہ اقتصادی کمیشن کے قیام کا معاہدہ 1983 میں طے پایا، دونوں ممالک نے تجارت و زراعت اورسیاحت کے علاوہ توانائی کے شعبے میں معلومات کے تبادلہ سمیت اہم پیشرفت کی، دونوں ممالک متعدد علاقائی اور عالمی مسائل پر یکساں موقف رکھتے ہیں، پاکستان نیپال کے ساتھ اپنے دوستانہ تعلقات کوبڑھانے کا خواہاں ہے اور تجارتی اور اقتصادی شعبوں میں تعاون کے نئے راستے تلاش کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ اقتصادی کمیشن کا چھٹا اجلاس 8 سال سے زائد عرصہ کے بعد ہو رہا ہے، پاکستانی حکومت علاقائی ممالک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرنا چاہتی ہے، اس سلسلے میں نیپال کو خصوصی اہمیت حاصل ہے، یہی وجہ ہے کہ نئی حکومت نے فوراً نیپال کے ساتھ مشترکہ اقتصادی کمیشن کا اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا۔ وزیر خزانہ نے امید ظاہر کی کہ مشترکہ اقتصادی کمیشن کے اجلاس میں دونوں ممالک کے باہمی مفاد کے مختلف شعبوں میں ترقی کے لیے اہم تجاویز و سفارشات پیش کی جائیں گی، اس سے ہمیں تجارت، زراعت، تعلیم، توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں مل کر آگے بڑھنے کا موقع میسر آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور نیپال کے قریبی اور دوستانہ تعلقات کو اقتصادی اور تجارتی تعاون میں تبدیل کیا جاسکتا ہے، دوطرفہ تجارت کو وسعت دینے کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے، یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ دونوں ممالک کی جوائنٹ ٹیکنیکل کمیٹی کے اس سال جولائی میں انتہائی مفید مذاکرات ہوئے جو آزاد تجارتی معاہدے کے ضمن میں اہم سنگ میگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پرامید ہیں کہ آزاد تجارتی معاہدے سے باہمی تجارت کو فروغ دینے کی نئی راہیں کھلیں گی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ جوائنٹ بزنس کونسل کا دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے میں بہت اہم کردار ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کی متعلقہ تنظیموں پر زور دیا کہ مشترکہ بزنس کونسل کا تیسرا اور بامقصد اجلاس اسی سال منعقد کیا جائیگا۔ دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری اورمشترکہ منصوبہ سازی کے وسیع مواقع موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت توانائی کے شدید بحران کا سامنا ہے جبکہ نیپال نے متبادل توانائی کے ذرائع کو ترقی دینے میں مہارت حاصل کر لی ہے، پاکستان کے متبادل توانائی بورڈ کو نیپال کے متبادل توانائی پروموشن سینٹر کے ساتھ روابط قائم کرتے ہوئے اس شعب میں اس کے تجربہ سے استفادہ کرنا چاہیے، اس حوالے سے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے سے تعاون کو مزید وسعت دی جاسکے گی۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے توقع ظاہر کی کہ نیپالی سرمایہ کار پاکستان کی جغرافیائی حیثیت، سازگار،آزاد سرمایہ کاری پالیسی و سہولتوں اور وسیع مواقع سے بھرپور استفادہ کریں گے، اندرونی اور بیرونی چیلنجز کے باوجود پاکستان کی اقتصادی کارکردگی بہتر ہوئی ہے۔ اس موقع پر نیپال کے وزیر خزانہ پرساد کوئرالہ نے کہا کہ پاک نیپال تعلقات خیرسگالی، دوستی اور تعاون پر مبنی ہیں،دوطرفہ تعاون کو اقتصادی اور ثقافتی محاذوں تک بڑھانے سے ہمارے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے، باہمی تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے کے بڑے مواقع ہیں، زراعت، سیاحت، تعلیم، صحت، ثقافت، ٹیکسٹائل اور صنعتی شعبوں میں تعاون دونوں ممالک کی اقتصادی ترقی اور لوگوں کی خوشحالی میں اہم کردار ادا کریگا۔ انہوں نے حکومت پاکستان کی جانب سے نیپالی چائے کی ڈیوٹی فری رسائی دینے کے فیصلہ کا خیرمقدم کیا اور فنی تعلیم کے شعبے میں تعاون فراہم کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان روابط کو مزیدفروغ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے دوطرفہ تجارت اور کاروبار کو ترقی ملے گی۔نیپال کے وزیر خزانہ نے امید ظاہر کی کہ مشترکہ اقتصادی کمیشن کے اجلاس کی سفارشات دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے میں معاون ومددگار ثابت ہوں گی۔
تبصرے بند ہیں.