Latest National, International, Sports & Business News

بنگلہ دیشی ڈومیسٹک کرکٹ میں کرپشن رچ بس گئی

بنگلہ دیشی ڈومیسٹک کرکٹ میں کرپشن رچ بس گئی، کئی برس سے کلب کرکٹ میں سرعام جوا کھیلا جارہا ہے. ایجوکیشنل پروگرام زیادہ تر انٹرنیشنل کھلاڑیوں تک ہی محدود رہتا ہے، کرکٹ سے روزی روٹی کمانے والے کسی غلط حرکت کی رپورٹ نہیں کرتے۔ تفصیلات کے مطابق فکسنگ اسکینڈل نے بنگلہ دیشی کرکٹ کو اس وقت ہلا کر رکھا ہوا ہے، آئی سی سی کی جانب سے 7 افراد کو فکسنگ اور دو کو مشکوک روابط کی رپورٹ نہ کرنے کا مرتکب قرار دیا جاچکا ہے، اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ بنگلہ دیش کی ڈومیسٹک کرکٹ میں کئی برسوں سے کرپشن رچی بسی ہوئی ہے۔ جنوری 2013 سے قبل تک اینٹی کرپشن اقدامات اور سزائوں کے بارے میں معلومات صرف انٹرنیشنل کرکٹرز کو ہی تھیں تاہم بنگلہ دیش پریمیئر لیگ کے دوسرے ایڈیشن سے قبل رواں برس 15 جنوری کو بی سی بی کی جانب سے خصوصی ایجوکیشنل پروگرام کا اہتمام کیا گیا جس میں 112 کرکٹرز نے حصہ لیا مگر یہاں پر کرپشن اپنی جڑیں پھیلاچکی تھی۔یہ مختصر پروگرام اس کے تدارک کیلیے کافی ثابت نہیں ہوا، بی سی بی نے اپنا اینٹی کرپشن یونٹ بھی اس وقت قائم کیا جب آئی سی سی کی جانب سے آخری وارننگ دی گئی۔ ڈھاکا لیگز میں کرپشن کے بارے میں شواہد اکٹھا کرنا مشکل کام ہے لیکن ہر سیزن میں مقامی اخبارات مشکوک میچز کی تفصیلات سے بھرے پڑے ہوتے ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ جن پر الزامات عائد کیے جاتے ہیں ان کی جانب سے ان رپورٹس کو چیلنج بھی نہیں کیا جاتا، اس کے باوجود بی سی بی نے تحقیقات نہیں کیں، بورڈ آفیشلزشواہد نہ ہونے کو اس کی وجہ قرار دیتے ہیں، ملکی ایونٹ ڈھاکا پریمیئر لیگ ہے مگر اس کے باوجود اس میں کوئی بھی کیمرے نصب نہیں کیے جاتے۔

تبصرے بند ہیں.