اسلام آ باد: وفاقی حکومت نے ملک کی طاقتور لابی کے سامنے بے بس ہو کر وفاقی بجٹ میں پانچ زیرو ریٹڈ شعبوں کی تیار کردہ مصنوعات کی مقامی مارکیٹ میں سپلائی پر عائد 17 فیصد سیلز ٹیکس کم کر کے 5فیصد کردیا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)کی طرف سے گزشتہ روز باضابطہ طور پر نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ کمرشل امپورٹرز پرخام مال کی درآمد پر 2 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہوگا اور کمرشل امپورٹرز کی طرف سے درآمدی سامان کی ٹیکسٹائل، لیدر، کارپٹ، سرجیکل اور اسپورٹس پر مشتمل 5 زیرو ریٹڈ شعبوں کو فروخت پر 2 فیصد سیلز ٹیکس وصول کیا جائیگا تاہم مذکورہ 5 شعبوں کے علاوہ کسی دوسرے شعبوں کو اشیا کی سپلائی پر 17 فیصد سیلز ٹیکس وصول کیا جائیگا، البتہ مذکورہ 5زیرو ریٹڈ شعبوں کی تیار کردہ حتمی اشیا کی مقامی مارکیٹ میں سپلائی پر 5 فیصد سیلز ٹیکس وصول کیا جائیگا۔ اس بارے میں ایف بی آر کے سینئر افسر نے بتایا کہ 22 جولائی بروز پیر وفاقی وزیر خزانہ سینٹر اسحاق ڈار سے ملک کے مختلف چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز سمیت دیگر تاجر و صنعتکار تنظیموں کے نمائندوں نے ملاقات کی تھی جس میں ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے نمائندے طاقتور لابی کے آلہ کار نظر آئے اور طاقتور لابی کے مفادات کا بھرپور انداز میں تحفظ کرتے ہوئے وزیر خزانہ پر دباؤ ڈال کر بجٹ میں 5زیرو ریٹڈ شعبوں کی تیار کردہ مصنوعات کی مقامی سپلائی پر عائد کردہ 17 فیصد سیلز ٹیکس کا فیصلہ بجٹ کی سیاہی ماند پڑنے سے قبل واپس کرانے میں کامیاب ہوگئے۔ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ حکومت کے دور میں بھی ایف بی آر متعدد مرتبہ مذکورہ طاقتور لابی کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی کوششیں کرچکا ہے اور انہی کوششوں کے تحت 5 زیرو ریٹڈ شعبوں کی تیار کردہ حتمی اشیا کی مقامی سپلائی پر ٹیکس بھی عائد کیا مگر اس میں ناکامی ہوئی اورسابقہ حکومت کے آخری دور میں بھی اس طاقتور لابی پرجو ٹیکس عائد کیا گیا اس کی شرح کو کم کرکے 2 فیصد کردیا گیا تھا اور پیر کے روز بھی ہونے والی ملاقات میں وفاقی وزیرخزانہ کو دباؤ میں لانے میں کامیاب ہوگئے ہیں اور وزیر خزانہ کی ہدایت پر 5 زیرو ریٹڈ شعبوں کی تیار کردہ حتمی اشیا کی مقامی مارکیٹ میں سپلائی پر عائد سیلز ٹیکس کی شرح 17فیصد سے کم کرکے 5فیصد کردی گئی ہے۔ کیونکہ وزیر خزانہ کی زیر صدارت اجلاس میں چیمبر آف کامرس کے نمائندوں کی طرف سے وزیر خزانہ کو مجبور کیا گیا تھا کہ اس شعبے کیلیے ایک دم 17 فیصد سیلز ٹیکس عائد نہ کیا جائے چونکہ پہلے بھی 2 فیصد سیلز ٹیکس عائد تھا اس لیے اب بھی یہی شرح برقرار رکھی جائے اس لیے اب ایف بی آر نے 5 زیرو ریٹڈ شعبوں کی تیار کردہ حتمی اشیا کی مقامی مارکیٹ میں سپلائی پر سیلز ٹیکس کی شرح 5 فیصد کردی ہے اور کمرشل امپورٹرز کی طرف سے درآمد کردہ سامان کی 5 زیرو ریٹڈ شعبوں کو سپلائی پر 2 فیصد اور زیرو ریٹڈ شعبوں کے علاوہ دوسرے شعبوں کو سپلائی پر 17 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہوگا۔
تبصرے بند ہیں.