Latest National, International, Sports & Business News

جنگ بندی معاہدے میں لبنان کو بھی شامل کیا جائے: برطانیہ، فرانس، آسٹریلیا، یورپی یونین

پیرس: فرانس، آسٹریلیا، اور برطانیہ نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے جنگ بندی معاہدے میں لبنان کو بھی شامل کیا جانا چاہئے۔ایکس پر اپنے بیان میں فرانسیسی صدر کہا کہ میں نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے گفتگو کی اور دونوں رہنماؤں کے جنگ بندی پر رضامندی کے فیصلے کو بہترین قرار دیا ہے اور یہ امید ظاہر کی کہ یہ جنگ بندی تمام محاذوں پر، بشمول لبنان، مکمل طور پر نافذ کی جائے گی۔ فرانسیسی صدر نے مزید کہا کہ ’اس پیش رفت سے جامع مذاکرات کی راہ ہموار ہوگی جو ایک طویل المدتی امن معاہدے تک لے جا سکتی ہے، فرانس مشرقِ وسطیٰ میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور اپنا بھرپور کردار ادا کرے گا۔ میکروں کے مطابق انہوں نے اس معاملے پر قطر، متحدہ عرب امارات، لبنان اور عراق کے رہنماؤں سے بھی بات چیت کی ہے۔یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اس سے قبل بدھ کے روز میکروں نے دو فرانسیسی شہریوں سے ملاقات کی جو ایران میں تین سال سے زائد حراست کے بعد رہا ہوئے ہیں۔دوسری طرف وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ لبنان جنگ بندی کا حصہ نہیں ہے اور اسرائیل نے بدھ کے روز بھی لبنان کے دارالحکومت بیروت کو نشانہ بنایا اور ان حملوں میں 254 سے زائد افراد کی شہادت کی اطلاعات ہیں۔لبنان کے وزیرِ اعظم نے اسرائیلی فضائی حملوں کی بڑی لہر کے بعد لبنان کے تمام دوست ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ ملک میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائی کو تمام دستیاب ذرائع سے رکوانے میں مدد کریں۔ادھر آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے کہا ہے کہ ایران امریکا جنگ بندی اہم پیش رفت ہے، جنگ بندی لبنان پر بھی لاگو ہونی چاہیے تاکہ خطے میں مکمل امن قائم ہو سکے۔آسٹریلوی وزیراعظم نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امن نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے سود مند ہو گا، معاہدہ فوری طور پر معمول کی صورتحال بحال نہیں کرے گا، مستقل امن کے لیے مزید سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے، خطے میں امن کے قیام کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے۔برطانوی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ جنگ بندی میں لبنان کو بھی شامل کیا جائے، آبنائے ہرمز سے گزرنے والی شپنگ مکمل طور پر ٹول فری ہونی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ سمندری آمدورفت کو یکطرفہ طور پر ختم یا فروخت نہیں کیا جا سکتا،عالمی بحری تنظیم کی تجاویز کی حمایت کی جانی چاہئے۔یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ کایا کالاس نے کہا ہے کہ ایران امریکا جنگ بندی کا دائرہ کار میں لبنان بھی شامل ہونا چاہئے، اسرائیل کی سخت کارروائیاں دفاع کے دائرے میں نہیں آتیں۔کایا کالاس نے کہا کہ اپنے دفاع کا حق اتنی بڑی تباہی کا جواز نہیں بن سکتا۔سپین نے کہا ہے کہ اسرائیل لبنان میں جنگی جرائم کر رہا ہے جس سے سارے خطے کا امن خطرے میں پڑ گیا ہے۔ہسپانوی وزیر خارجہ نے تہران میں اپنا سفارتخانہ بھی دوبارہ کھولنے کا اعلان کر دیا ہے۔ہسپانوی وزیراعظم پیڈرو سانچز نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا ہے کہ یورپی یونین جنگ بندی کی خلاف ورزی کرنے پر اسرائیل کے ساتھ اپنے تمام معاہدے معطل کر دے اور اسرائیل کو سزا دے۔

تبصرے بند ہیں.