تہران، واشنگٹن، ابوظہبی:مشرق وسطیٰ میں جنگ 35 ویں روز میں داخل ہو گئی، امریکا اسرائیل کے حملوں میں شدت آ گئی، تہران، کرج، قم، بندرعباس اور ایران کے دیگر علاقوں پر حملے کیے گئے، ایران نے امریکی تنصیبات اور اسرائیلی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے، قیشم جزیرے پر لڑاکا طیارہ مار گرایا، ابراہم لنکن بیڑے پر کروز میزائلوں سے حملہ کیا۔سوشل میڈیا صارفین اور ذرائع ابلاغ نے گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران مغربی تہران، ملارد، پارچین، کرج، مہرشہر، شہریار، بندرعباس، بہبہان، برازجان اور بوشہر میں دھماکوں کی اطلاعات دی ہیں، اسی طرح تبریز، شیراز اور قم میں بھی دھماکوں اور حملوں کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ جنگ کے آغاز سے اب تک ایران میں 2076 افراد شہید ہو چکے ہیں، 26 ہزار 500 سے زائد زخمی ہوئے، ایک لاکھ 13 ہزار شہری املاک کو نقصان ہوا، 90 ہزار گھر اور 760 تعلیمی ادارے بھی تباہ ہوئے ہیں۔ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایک اور امریکی ایف-35 طیارہ اس وقت مار گرایا جب وہ وسطی ایران کے اوپر پرواز کر رہا تھا۔فارس نیوز ایجنسی کی ٹیلیگرام پوسٹ میں بتایا گیا کہ لڑاکا طیارہ مکمل طور پر تباہ ہو کر گر کر تباہ ہو گیا اور طیارے کو شدید نقصان پہنچنے کے باعث پائلٹ کے بارے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ایران کی مہر نیوز ایجنسی نے بھی ٹیلیگرام پر ایک پوسٹ میں کہا کہ شدید دھماکے کی وجہ سے امکان نہیں ہے کہ پائلٹ طیارے سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوا ہو، امریکی سینٹرل کمانڈ نے فوری طور پر ان دعووں پر کوئی ردعمل نہیں دیا، تاہم اس نے آئی جی آر سی کے پہلے اس دعوے کو مسترد کر دیا تھا کہ اس نے ایک امریکی لڑاکا طیارہ مار گرایا ہے۔
تبصرے بند ہیں.