Latest National, International, Sports & Business News

کاروباری برادری نے بجلی اور پٹرولیم نرخوں میں اضافہ مسترد کر دیا

کراچی: تاجروں و صنعتکاروں نے حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات اور بجلی کے نرخوں میں ہوشربا اضافے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے لیے قومی توانائی پالیسی کی منظوری خوش آئند عمل ہے۔ لیکن بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت سے مقامی مصنوعات بیرونی منڈیوں میں مسابقت کے قابل نہیں رہیں گی جبکہ دوسری جانب برآمدی آڈرز کی بروقت تکمیل میں مشکلات کا سامنا ہوگا۔ ایف پی سی سی آئی کے صدر زبیر احمد ملک،سابق صدور ایس ایم منیر،طارق سعید،کراچی چیمبر کے صدر ہارون اگر،سابق صدور انجم نثار،سراج قاسم تیلی،ہارون فاروقی،کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے چیئرمین زبیر چھایا، سابق چیئرمین میاں زاہد حسین، جوہر قندھاری، آل کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر،سندھ تاجر اتحاد کے چیئرمین جمیل احمد پراچہ، سائٹ ایسوسی ایشن کے چیئرمین ڈاکٹر ارشد وہرہ اور دیگر نے پٹرولیم مصنوعات اوربجلی کی قیمتوں میں ہوشربااضافے سمیت صنعتی صارفین کے لیے یکم اگست سے بجلی کی قیمتوں میں اضافے پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ قومی توانائی پالیسی کے تحت 2015 تک 400 میگا واٹ کے ہائیڈل منصوبے اور کوئلے کے ذریعے 7ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کے مثبت اثرات نمودارہونگے۔ لیکن پاکستانی برآمدکنندگان کو بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت کے باعث شدید مشکلات کا سامنا ہے اور پٹرولیم مصنوعات اورصنعتی بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے صنعتی پیداواری عمل بری طرح متاثر ہوگا۔ تاجروں اور صنعتکاروں کا کہنا تھا کہ حکومت بجلی کی قیمتوں میں استحکام پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ ملکی برآمدی اہداف کی تکمیل کے لیے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورتی پہلو کو اپناتے ہوئے بجلی کی قیمتوں میں مرحلہ واراضافے کی پالیسی کو اپنائے کیونکہ برآمدی آرڈرز بیرونی خریدار سے پہلے سے طے شدہ ہوتے ہیں اور اگرایکدم سے بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا جائیگا تو کس طرح طے شدہ قیمتوں پر برآمدی آرڈرز کی تکمیل ممکن ہوسکے گی۔

تبصرے بند ہیں.