Latest National, International, Sports & Business News

حمزہ پیرتک وزیراعلیٰ‘بادی النظر میں ڈپٹی سپیکر کی رولنگ غلط ہے‘سپریم کورٹ

https://www.facebook.com/UsmanGhaniPhotography

لاہور:سپریم کورٹ آف پاکستان نے حمزہ شہباز شریف کو عبوری وزیراعلیٰ بنا دیا۔ چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے مختصر فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا یکم جولائی کا اسٹیٹس بحال کرنے کے بعد اس کیس کوتفصیل سے سنیں گے۔ پیر تک حمزہ شہباز صرف روٹین کے امور سرانجام دینگے، حمزہ عبوری وزیراعلیٰ کے فرائض پیر تک سر انجام دینگے، کیس کی سماعت پیرکے روزہوگی، تمام وکلا کوسنیں گے۔پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور مسلم لیگ ق کے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے معاملے پر سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں جمع کرائی جانے والی درخواست پر چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ تشکیل دیا گیا ہے جس میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر شامل ہیں۔پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور مسلم لیگ ق کے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے معاملے پر سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں جمع کرائی جانے والی درخواست پر چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ تشکیل دیا گیا ہے جس میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر شامل ہیں۔ چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں فل بینچ نے مختصر فیصلہ جاری کرتے ہوئے حمز شہباز کا بطور وزیراعلیٰ یکم جولائی کا سٹیٹس بحال کر دیا۔ حمزہ شہباز ایک مرتبہ پھر عبوری وزیراعلیٰ پنجاب ہوں گے۔ بادی النظر میں ڈپٹی سپیکر کی رولنگ غلط ہے۔ اگر پارٹی سربراہ کی ہی بات ماننی ہے تو اس کا مطلب پارٹی میں آمریت قائم کردی جائے۔چیف جسٹس نے مختصر فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ یکم جولائی کا اسٹیٹس بحال کرنے کے بعد اس کیس کوتفصیل سے سنیں گے۔ پیر تک حمزہ شہباز صرف روٹین کے امور سرانجام دینگے، حمزہ عبوری وزیراعلیٰ کے فرائض پیر تک سر انجام دینگے، کیس کی سماعت پیرکے روزہوگی، تمام وکلا کوسنیں گے۔پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ کیسز کی سماعت اتوار کے روز بھی کی جائے۔ حمزہ شہباز اس اہل نہیں وہ وزیراعلی کےعہدے پررہ سکین۔ حمزہ شہباز کو کابینہ بنانے سے روکا جائے۔جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ اتوار کو سماعت نہیں ہو سکتی عدالت اس کیس کو جلد سماعت کرے گی۔ عدالت نے ریکارڈ مانگا تھا کیا ریکارڈ آیا ہے۔ڈپٹی سپیکر کے وکیل عرفان قادر نے کہا کہ اس حوالے سے میرے کلائنٹ نے مجھے کوئی اپ ڈیٹ نہیں دی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم وہ چٹھی دیکھنا چاہتے ہیں جو پارٹی سربراہ کی جانب سے بھیجی گئی۔اس پر عرفان قادر نے کہا کہ اگر پارٹی سربراہ چودھری شجاعت کو بھی فریق بنا لیاجائے تو بہتر ہے۔چیف جسٹس نے مزید کہا کہ بادی النظر میں آپ بھی سپیکر سے اتفاق کرتے ہیں۔ عدالت جائزہ لے گی پارٹی سربراہ اور پارلیمانی سربراہ کی ہدایات میں کیا فرق ہے۔ عدالت اسی موضوع پر17مئی کا فیصلہ دے چکی ہے۔ بادی النظر میں ڈپٹی سپیکر کی رولنگ اس فیصلے کےخلاف ہے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ 23 اے، 63بی کیا کہتی ہے، عدالت کا فیصلہ کیا ہے۔ اس پر عرفان قادر نے کہا کہ ڈپٹی سپیکر نے اسی فیصلے کےمطابق رولنگ دی۔اس موقع پر حمزہ شہباز کے وکیل منصور سرور نے کہا کہ مجھے درخواست کے قابل سماعت ہونے پراعتراض ہے۔ انفرادی شخص کامعاملہ آئین کےآرٹیکل 184 کےسیکشن تین کےتحت قابل سماعت نہیں۔ یہ سیدھا سادھا الیکشن کا معاملہ ہے جسے الیکشن کمیشن جانا چاہیے۔چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے استفسار کیا کہ سادہ سوال ہے پارٹی سربراہ کی ہدایت چلنی ہے یا پارلیمانی سربراہ کی ہدایت چلنی ہے۔حمزہ کے وکیل نے کہا کہ اگر ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کےخلاف فیصلہ آیا تو صوبے کے انتظامی امور متاثر ہوں گے۔

تبصرے بند ہیں.