اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے الیکٹرانک سروسز (ای سروسز) کا دائرہ کار بڑھانے کے لیے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) سے شارٹ کور لائسنس حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایف بی آر کے سینئر افسر نے بتایا کہ ایف بی آر نے شارٹ کور لائسنس کے حصول کے لیے پی ٹی اے کو باضابطہ طور پر درخواست بھی دیدی ہے۔ ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے ٹیکس چوری روکنے کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سسٹم کو مزید مضبوط و مربوط بنانے کا فیصلہ کیا ہے اور اسی پراجیکٹ کے تحت ٹیکس حکام کو انوینٹری اسکینرز بھی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو بڑے بڑے اسٹورز اور دکانوں پر موجود اشیا کے اسٹاک کی الیکٹرنیکلی اسیکننگ بھی کرسکیں گے اور تصاویر بھی لے سکیں گے جس سے بڑے بڑے اسٹور، دکانداروں اور مینوفیکچررز سے انکی اشیا پر مطلوبہ صلاحیت کے مطابق ٹیکس وصولی یقینی ہوسکے گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ انوینٹری اسکینرز و جدید ٹیکنالوجی کے حامل الیکٹرانک آلات کے ذریعے جو ریکارڈ حاصل ہوگا اس کو ٹیکس دہندگان کی طرف سے اپنے ٹیکس گوشواروں میں فراہم کردہ معلومات کو چیک کرنے کے لیے استعمال میں لایا جائے گا، اگر کسی ٹیکس دہندہ کی طرف سے اپنے ٹیکس گوشوارے میں اشیا کا اسٹاک کم ظاہر کیا گیا ہوگا تو ثبوت کے ساتھ متعلقہ ٹیکس دہندہ کو صورتحال سے آگاہ کیا جائیگا، اسی طرح اگر کسی اسٹور یا دکاندار کی طرف سے اپنی سیل کم ظاہر کی گئی ہوگی تو اس کی بھی چیکنگ کی جاسکے گی۔ ذرائع نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں مذکورہ نظام پائلٹ پراجیکٹ کے تحت متعارف کرایا جائے گا جسے بتدریج ملک بھر میں نافذ کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ انوینٹری اسکیننگ سسٹم دنیا کے بیشتر ممالک میں کامیابی کے ساتھ نافذالعمل ہیں، اب اس ٹیکنالوجی کو پاکستان میں متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی سے شارٹ کور لائسنس ملنے کے بعد ایف بی آر کو ہیڈ کوارٹرز سمیت فیلڈ فارمشنز میں آئی ٹی کا دائرہ کار بڑھانے میں مددملے گی اور اس لائسنس کے ملنے سے ٹیکس دہندگان سے آن لائن ٹیکس گوشواروں کے حصول کا نظام بھی اپ گریڈ اور تیز ہوجائے گا جس سے ٹیکس دہندگان کو درپیش مسائل بھی حل ہو جائیں گے۔
تبصرے بند ہیں.