سابق کپتان وسیم اکرم نے پیسر محمد عرفان کو خوراک کا خاص خیال رکھنے کا مشورہ دیا ہے، ان کے مطابق بطور پروفیشنل کرکٹر اسے متواتر چکن قورمے سے زیادہ سبزیاں کھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ایک انٹرویو میں سابق کپتان نے کہا کہ محمد عرفان کی کچھ عرصے قبل ہی انٹرنیشنل کرکٹ میں آمد ہوئی، اس نے اچھا کھیل پیش کیا لیکن جلد اپنے جسم کو بوجھ سہنے کا عادی بنانا ہوگا، جب کبھی میری اس سے ملاقات ہو میں اسے خوراک کا خاص خیال رکھنے کا مشورہ دیتا ہوں، میں نے اسے یاد دلایا کہ بطور پروفیشنل کرکٹر اسے متواتر چکن قورمے سے زیادہ سبزیاں کھانے کی کوشش کرنی چاہیے، ہمارے ملک میں کھلاڑیوں کی خوراک کے حوالے سے زیادہ رہنمائی نہیں ہوتی، اس شعبے میں بہتری لانی چاہیے۔ وسیم اکرم نے کہا کہ وہاب ریاض کو نفسیاتی معاملات کا سامنا ہے، اس میں صلاحیت اور پیس موجود مگر اسے خود پر یقین نہیں ہے، بولنگ کیمپ کے دوران میں نے اسے اپنی خوبیوں پر توجہ دینے کا مشورہ دیا تھا، کھیل میں تسلسل ذہنی پختگی سے آتا ہے۔اگر آپ 2چوکے کھاکر پریشان ہو جائیں تو ذہنی طور پر مضبوط نہیں ہیں،وہاب کے ساتھ بھی یہی مسئلہ ہے، اسے اپنی ذہنی مضبوطی پر کام کرنا چاہیے، ہیڈ کوچ اور بولنگ کوچ کو اس کی مدد کرنی ہو گی، اگر وہاب کی کارکردگی میں جلد تسلسل نہ آیا تو ٹیم سے باہر ہو جائے گا اور پھر واپسی کیلیے خاصی جدوجہد کرنا پڑے گی۔ وسیم اکرم جنید خان سے خاصے متاثر ہیں، انھوں نے کہا کہ وہ بہت باصلاحیت بولر اور گیند کو دونوں سمت سوئنگ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ سابق عظیم پیسر نے کہا کہ چیمپئنز ٹرافی کے بعد سلیکٹرز اور پاکستانی تھنک ٹینک کو حکمت عملی کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت تھی، انھوں نے کامران اکمل اور شعیب ملک کو ڈراپ کر کے درست قدم اٹھایا، وسیم اکرم نے کہا کہ ویسٹ انڈیز میں ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی دونوں سیریز میں کامیابی پر ٹیم شاباشی کی حقدار ہے،50اوورز کے فارمیٹ میں مصباح الحق نے ایک بار پھر آگے بڑھ کر قیادت کے فرائض نبھائے،میں آفریدی کے ایک اور شاندار کم بیک پر بھی بیحد مسرور ہوں۔ سابق کپتان نے عمر اکمل سے وکٹ کیپنگ کرانے کو غلط فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ سطح کی کرکٹ میں اسپیشلسٹ وکٹ کیپر کی ضرورت ہوتی ہے، عمر بیحد باصلاحیت بیٹسمین اور اس سے وکٹ کیپنگ کرانا اضافی ذمہ داری ڈالنے کے مترادف ہے، اس نے تو کبھی ڈومیسٹک کرکٹ میں بھی یہ کام نہیں سنبھالا۔
تبصرے بند ہیں.