اسلام آباد – حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پوری کرتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات
کی قیمتوں کا تعین اوگرا سے واپس لینے کا فیصلہ کرلیا۔ سماء نیوز کے مطابق حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین حکومت کی بجائے مارکیٹ فورسز کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے تحت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین حکومت نہیں بلکہ مارکیٹ فورسز کیا کریں گی۔ذرائع کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو نومبر کے مہینے سے ڈی ریگولیٹ کرنے کیلئے اوگرا کو ٹاسک دیا گیا ہے، آئل سیکٹرکی ڈی ریگولیشن کے لیے اوگرا کو ٹی او آر تیارکرنے کی حکومتی ہدایت جاری کردی گئی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ اس سلسلے میں چئیرمین اوگرا کی زیر صدارت اسلام آباد میں اہم اجلاس ہوگا، جہاں آئل سیکٹر نمائندوں کو آج ڈی ریگولیشن کے حوالے سے پریزینٹیشن دینے کا کہا گیا ہے، اس ضمن میں آئل مارکیٹنگ کمپنوں اور ریفائنریز کو اوگرا نے ایک خط تحریر کیا گیا ہے۔ادھرملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف متفرق درخواست دائر کر دی گئی، درخواست میں اوگرا، وفاقی حکومت سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے ، درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی ہوئی، قیمتوں میں اضافے کیلئے ٹھوس وجوہات بیان نہیں کی گئیں،اس لیے استدعا کی جاتی ہے کہ عدالت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کالعدم قرار دے۔واضح رہے کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی کر دی گئیں، وفاقی حکومت نے ستمبر کے پہلے 15 ایام کیلئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 11 روپے تک کا اضافہ کیا ہے، اوگرا کی سمری پر غور کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دی ، وفاقی حکومت نے یکم ستمبر 2022 سے پٹرول 2 روپے 99 پیسے، مٹی کا تیل 10 روپے 92 پیسے، ہائی اسپیڈ ڈیزل 2 روپے 99 پیسے جب کہ لائٹ اسپیڈ ڈیزل 9 روپے 79 پیسے مہنگا کر دیا، یوں پٹرول مہنگا ہوکر 235.98 روپے، ڈیزل 247 روپے 43 پیسے، مٹی کا تیل 210 روپے 32 پیسے جبکہ لائٹ اسپیڈ ڈیزل 201 روپے 54 پیسے کا ہو گیا۔
تبصرے بند ہیں.