زمبابوے کیخلاف سیریز سے قبل بے اعتبار پاکستانی بیٹنگ لائن نے کوچ ڈیو واٹمور کی دھڑکنیں تیز کردیں۔ ناقابل پیشگوئی ٹیم کی کوچنگ سے ان کے دل میں بھی خوف بیٹھ گیا، میزبان سائیڈ کے خلاف گرین شرٹس کو فیورٹ قرار دینے کے باوجود فتح کویقینی قرار دینے سے مسلسل اجتناب کررہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ کائیل جارویس کی ریٹائرمنٹ کا پورا فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے، زمبابوین سائیڈ میں اب بھی کئی اچھے کھلاڑی موجود ہیں، کسی دن کچھ بھی ہوسکتا ہے، ہمارے بیٹسمینوں کو ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا، ساتویں نمبر تک کے کھلاڑی کو پرفارمنس میں تسلسل لانا چاہیے۔ ادھر ون ڈے و ٹیسٹ قائد مصباح الحق نے زمبابوین ٹور کو نوجوان کھلاڑیوں کیلیے اچھا موقع قرار دے دیا، ان کا کہنا ہے کہ منیجر معین خان کے تجربے سے کھلاڑیوں کو مدد ملے گی۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ ٹیم جمعے سے زمبابوے کے ٹور کا ٹوئنٹی 20 میچز سے آغاز کررہی ہے، جوں جوں پہلے میچ کا دن قریب آرہا ہے کوچ ڈیو واٹمورکی دھڑکنیں تیز ہوتی جارہی ہیں، وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کا مقابلہ ایک ناتجربہ کار اور مسائل سے الجھی ہوئی ٹیم سے ہے، مگر ناقابل اعتبار پاکستانی بیٹنگ لائن ان کے خون کی گردش بڑھا رہی ہے اس لیے وہ حتمی طور پر کوئی بھی بات کہنے سے گریز کررہے ہیں۔ انھیں اس بات کی زیادہ خوشی ہے کہ زمبابوے کو اس سیریز میں اپنے فرنٹ لائن فاسٹ بولر کائیل جارویس کا ساتھ حاصل نہیں جو معاوضوں کے تنازع پر حال ہی میں انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرہوگئے تھے۔ڈیو واٹمور نے کہا کہ زمبابوے کے پاس چند بہترین کھلاڑی موجود اور ہم یہ بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ اپنی کنڈیشنز میں کھیل رہے ہیں، ہمارے بیٹسمینوں کو یہاں پر بہتر کھیل پیش کرنے کی ضرورت ہے، زمبابوے کو اس سیریز میں جارویس کا ساتھ حاصل نہیں اس لیے دیگر بولرز پر کافی دبائو ہوگا، ہم اس کا بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے لیکن اس کے باوجود میزبان سائیڈ کے پاس بہترین کھلاڑی موجود اور ہمیں اپنی پوری صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ واضح رہے کہ پاکستان ہر فارمیٹ میں زمبابوے سے کہیں آگے ہے، ٹوئنٹی 20 میں دوسرے، ٹیسٹ میں پانچویں اور ون ڈے میں چھٹے نمبر پر ہے جبکہ زمبابوین سائیڈ ٹوئنٹی 20 میں 12ویں اور ایک روزہ میں 10 ویں نمبر پر ہے۔ اس بارے میں واٹمور نے کہا کہ کوئی بھی رینکنگ دیکھ کر دونوں ملکوں کے درمیان فرق کا اندازہ لگا سکتا ہے، ہر کوئی یہی کہے گا کہ اس سیریز میں پاکستان فیورٹ ہے اور میں بھی اس سے متفق ہوسکتا ہوں مگر کسی بھی خاص روز کچھ بھی ہوسکتا ہے، دونوں ٹیموں کا ہر میچ میں سخت مقابلہ ہوگا۔ پاکستان کو بولنگ میں عرفان، سہیل تنویر، سعید اجمل اور شاہد آفریدی کا ساتھ حاصل ہے مگر واٹمور کیلیے تشویش کا باعث بدستور بیٹنگ لائن ہی ہے، انھوں نے کہا کہ ہمارے پاس چند بڑے بیٹسمین موجود ہیں مگر وہ ایک ساتھ کلک نہیں کرتے، ہم نے ویسٹ انڈیز کے خلاف 3-1 سے سیریز جیتی جبکہ جنوبی افریقہ جیسی ٹیم کے خلاف بھی 2 ون ڈے میں کامیابی حاصل کی، ہمارے پلیئرز اپنی ذمہ داری ادا کرسکتے ہیں مگر ہمیں بیٹنگ آرڈرمیں نمبرون سے 7 تک کی پرفارمنس میں تسلسل درکار ہے۔
تبصرے بند ہیں.