مقامی انسٹی ٹیوٹس اور غیرملکیوں کے سرمائے کے انخلا کے علاوہ ڈالر کی سٹہ بازی میں ملوث بینکوں کے خلاف تحقیقات کی خبروں کے باعث کراچی اسٹاک ایکس چینج میں پیر کو مندی کی بڑی لہر رونما ہوئی جس سے انڈیکس کی5نفسیاتی حدیں بھی گرگئیں، 69.65 فیصد حصص کی قیمتیں گرگئیں۔ جبکہ سرمایہ کاروں کے مزید 1 کھرب 9 ارب72 کروڑ99 لاکھ 10 ہزار410 روپے ڈوب گئے۔ ماہرین اسٹاک کا کہنا ہے کہ گیس پاورٹیرف کے علاوہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے، آئی ایم ایف کو ادائیگیوں سے ڈالر کی قدر میں اضافے، شرح سود میں مزید اضافے کے خدشات اورامن وامان کی خراب صورتحال کی وجہ سے ریٹیل انویسٹرز تو مارکیٹ سے آؤٹ ہوچکے ہیں جبکہ پیر کو مقامی انسٹی ٹیوشنز کی جانب سے حصص کی فروخت کی پیشکشوں پر بھی انہیں کوئی خاطر خواہ جواب نہیں ملا، ان عوامل نے سرمایہ کاروں کو مایوسی سے دوچار کردیا ہے۔
تبصرے بند ہیں.