فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور ٹائلٹریز، پرفیومری اور کاسمیٹک مینوفیکچررز کی مبینہ ملی بھگت سے ڈیوٹی اور ٹیکسوں کی مد میں قومی خزانے کو 2 ارب روپے سالانہ سے زائد کے نقصان کا انکشاف ہوا ہے جس پر وزارت خزانہ نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو معاملے کی تحقیقات کرنے کے احکام جاری کردیے۔ دستیاب دستاویز کے مطابق فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کی طرف سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو بھجوائی جانے والی دستاویز میں کہا گیا تھا کہ مذکورہ معاملے کی تحقیقات کی جائیں۔ ذرائع نے بتایا کہ ایف بی آر اور ٹائلٹریز، پرفیومری اور کاسمیٹک مینوفیکچررز کی مبینہ ملی بھگت سے ڈیوٹی اور ٹیکسوں کی مد میں قومی خزانے کو 2 ارب روپے سالانہ کا نقصان پہنچانے کے حوالے سے وزارت خزانہ کو بھی لیٹر بھجوایا گیا تھا جس پر وزارت خزانہ نے نوٹس لیتے ہوئے چیئرمین ایف بی آرطارق باجوہ کو ہدایت کی ہے کہ ٹائلٹریز، پرفیومری اور کاسمیٹک مینوفیکچررز کو ڈیوٹی اور ٹیکسوں میں دی جانیوالی چھوٹ کا جائزہ لیا جائے اور اس بارے میں پالیسی وضع کرکے ہدایات جاری کی جائیں۔ذرائع کے مطابق ایف بی آر اور وزارت خزانہ کو موصول ہونے والے لیٹر میں بتایا گیا کہ ایف بی آر کے اپنے اعدادوشمار کے مطابق پرفیومری، ٹائلٹریز اور کاسمیٹکس مینوفیکچررز سے 2 ارب روپے سالانہ سے زائد ریونیو حاصل ہورہا تھا اور اس شعبے سے ریونیو میں 19 فیصد گروتھ ہوئی ہے لیکن ٹائلٹریز، پرفیومری اور کاسمیٹک مینوفیکچررز نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے اعلیٰ حکام کی ملی بھگت سے یکم جون 2012 کو ترمیمی ایس آر او نمبر 598(I)/2012 جاری کراکر ٹائلٹریز، پروفیومری اور کاسمیٹکس پر عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی چھوٹ حاصل کرلی اور اس اقدام سے صرف گزشتہ مالی سال 2012-13 کے دوران فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو 2 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا۔ مذکورہ دستاویز میں ایف بی آر اور وزارت خزانہ سے درخواست کی گئی ہے کہ ٹائلٹریز، پرفیومری اور کاسمیٹکس پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی چھوٹ واپس لی جائے اور اس کے لیے یکم جون 2012 کو جاری کردہ ترمیمی ایس آر او نمبر 598(I)/2012 منسوخ کیا جائے اور ٹائلٹریز، پروفیومری اور کاسمیٹکس مینوفیکچررز سے 2 جون 2012 سے تمام ٹیکس واجبات وصول کیے جائیں۔ ذرائع کے مطابق مذکورہ لیٹر پر وزارت خزانہ نے نوٹس لیتے ہوئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو ہدایت کی ہے کہ معاملے کی تحقیقات کی جائیں اور مذکورہ شعبے کو دی جانے والی ٹیکسوں کی چھوٹ کا جائزہ لے کر پالیسی وضع کی جائے اور اس پر عملدرآمد کے لیے ہدایات جاری کی جائیں۔
تبصرے بند ہیں.