لندن / سڈنی: آسٹریلوی کوچ ڈیرن لی مین کی لفظی گولہ باری پر انگلینڈ بپھر گیا، آئی سی سی نے بھی اسٹورٹ براڈ کے خلاف تلخ جملوں کا نوٹس لے لیا۔ ان کے خلاف کارروائی کا امکان ہے، ناصر حسین نے آسٹریلیا میں براڈ کی سیکیورٹی پر خدشات ظاہر کردیے، ادھر آسٹریلیا اپنے اہم آفیشل کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لے گا، شین واٹسن نے بھی کوچ کے طرز عمل کو جائز قرار دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق آسٹریلیا کے کوچ ڈیرن لی مین نے براڈ کی جانب سے پہلے ٹیسٹ میں کیچ ہونے کے باوجود وکٹ نہ چھوڑنے کو سب سے بڑی بے ایمانی قرار دیا تھا، انھوں نے ریڈیو انٹرویو میں شائقین سے کہا تھا کہ وہ براڈ کا ایسا حشر کریں کہ وہ روتے ہوئے واپس جائیں۔ ان کے اس ریمارکس پر انگلینڈ میں سخت برہمی ظاہر کی جارہی ہے، سابق کپتان ناصر حسین نے تو یہاں تک کہہ دیاکہ لی مین کے بیان نے براڈ کی آسٹریلیا میں سیکیورٹی خطرے میں ڈال دی،کھلاڑی شام کو ہوٹل میں بند ہوکر نہیں بیٹھ سکتے جبکہ گھومنے پھرنے کی صورت میں انھیں کوئی گزند پہنچ سکتی ہےآئی سی سی نے بھی لی مین کی بیان بازی کا نوٹس لے لیا،اب قوانین کے تحت چیف ایگزیکٹیو ڈیو رچرڈسن کو ایک ہفتے کے اندر اس بات کا فیصلہ کرنا ہے کہ کینگرو کوچ کے خلاف کوئی ایکشن لیا جائے یا نہیں، قوانین کی خلاف ورزی پر لی مین کو نہ صرف سماعت بلکہ جرمانے کا بھی سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ دوسری جانب کرکٹ آسٹریلیا کی جانب سے لی مین کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی البتہ انھیں اس قسم کے معاملات پر مستقبل میں زیادہ احتیاط برتنے کو کہا جاسکتا ہے۔ ادھر آل رائونڈر شین واٹسن نے لی مین کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ کوچ نے جس جذبے کا اظہار کیا ہم اس سے خوش ہیں، گذشتہ مرتبہ ہماری ہوم سیریز میں خاص طور پر چوتھے اور پانچویں روز بارمی آرمی خوب شور شرابہ کرتی جس سے ہمیں لگتا تھا کہ جیسے انگلینڈ میں کھیل رہے ہوں۔
تبصرے بند ہیں.