کراچی کی بندرگاہوں اور نجی کنٹینرٹرمینلز سے مال کی ترسیل کرنے والے ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال جمعہ کو دوسرے دن بھی جاری رہی۔ ہڑتال کے سبب 2 روز کے دوران ملکی برآمدات کو 14ارب روپے سے زائد کا نقصان پہنچ چکا، بھارت کو پیاز کی برآمد معطل ہوگئی ہے، عاشورہ کی تعطیل سے قبل شپمنٹ کلیئر نہ ہونے کی صورت میں برآمدی کنسائمنٹس اپنے مقررہ مدت تک نہ پہنچنے سے کئی برآمدی آرڈرز منسوخ ہونے کاخدشہ ہے جس سے ایکسپورٹرز کو ناقابل تلافی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا، ساتھ ہی درآمدی کنسائنمنٹس کی کلیئرنس کے باوجود ترسیل نہ ہونے سے ان پر ڈیمریج بلکہ ڈیٹینشن چارجز کی مد میں اضافی اخراجات بڑھتے جارہے ہیں تاہم حکومت اور متعلقہ ذمے دار اداروں نے جاری ہڑتال کو ختم کرنے پر اب تک کوئی توجہ نہیں دی جبکہ ٹرانسپورٹرز نے 10 مطالبات کی منظوری تک ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ جن میں بھتہ مافیا سے نجات، پرچی سسٹم کے خاتمے، نیشنل ہائی وے پروزن کرنے والے کانٹوں کی زیادتیاں ختم کرنے، پولیس کی جانب سے بیگار کے لیے گاڑیوں اور کنٹینرز کی پکڑدھکڑ، مائی کولاچی کی بندش ختم کرنے، 960 جلی ہوئی گاڑیوں کا معاؤضہ، ٹریفک پولیس کے جرمانے اور کسٹم وایکسائز پولیس کی لاقانونیت شامل ہیں۔ واضح رہے کہ کراچی کی بندرگاہوں سے ملک میں یومیہ 10 ہزار کنٹینروں کی ترسیل ہوتی ہے اور جاری ہڑتال کی وجہ سے سبزی وپھلوں کے برآمدکنندگان سب سے زیادہ خوف زدہ ہیں جنہیں اپنے مال کی خرابی کی پریشانی لاحق ہوگئی ہے۔ گڈز ٹرانسپورٹ کی ہڑتال کے سبب ملک سے برآمدات اور درآمدی سامان کی فیکٹریوں تک کلیئرنس معطل ہے، پاکستان کو گزشتہ مالی سال کی برآمدات کی سطح کو برقرار رکھنے اور آئندہ 3 سالہ ٹریڈ پالیسی فریم ورک ہدف پورا کرنے کے لیے یومیہ 7.5ارب روپے کی مصنوعات کی برآمد یقینی بنانی ہے ۔تاہم 2 روز سے جاری ہڑتال کے سبب برآمدات کا پہیہ جام ہوچکا ہے، ہڑتال کا سب سے زیادہ نقصان جلد تلف ہونے والی اشیا کے برآمد کنندگان کو اٹھانا پڑرہا ہے جن میں پھل اور سبزیاں سرفہرست ہیں، بھارت میں پیاز کی قلت کے پیش نظر بھارت سمیت پیاز کے بڑے درآمدی ممالک کو پاکستان سے پیاز کی برآمد جاری ہے تاہم ہڑتال کے سبب بھارت کو بھی پیاز کی برآمد معطل ہوچکی ہے۔ آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل امپورٹرز ایکسپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ پھل اور سبزیوں جیسی جلد تلف ہونے والی اشیا کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہڑتال کے جلد از جلد خاتمے کو یقینی بنایا جائے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق آئندہ ہفتے سے عاشورہ کی تعطیلات شروع ہوجائیں گی اور فوری طور پر ہڑتال ختم نہ کی گئی تو پھل اور سبزیوں کی بھاری مالیت کی برآمدی کھیپ تلف ہونے کا خطرہ ہے۔ ایسوسی ایشن کے ذرائع نے بتایا کہ اس وقت 200سے زائد کنٹینرز پر مشتمل پھل اور سبزیاں بندرگاہ پہنچنے کی منتظر ہیں جبکہ اس سے دگنی مقدار میں پھل اور سبزیاں فیکٹریوں اور پیک ہاؤسز میں موجود ہیں، ٹرانسپورٹ کی ہڑتال ختم نہ کی گئی تو ہارٹی کلچرکے شعبے میں ایکسپورٹرز کے ساتھ کاشتکاروں کو بھی ناقابل تلافی بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کراچی چیمبر آف کامرس کے صدر عبداللہ ذکی نے ٹرانسپورٹررزکی غیر معینہ مدت کی ہڑتال پرتشویش کا اظہارکرتے ہوئے حکومت پرزوردیاکہ قومی مفاد میں گڈز کیریئر کے نمائندوں سے فوری مذاکرات کرے کیونکہ تاجربرادری اس قسم کی صورتحال کی متحمل نہیں ہوسکتی اور نہ ہی ملک بھر میں سامان کی ترسیل میں رکاوٹ برداشت کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ 9اور 10محرم الحرام کوسرکاری تعطیلات ہیں اس دوران ہڑتال کی صورت میں سامان کی اندرون ملک ترسیل متاثر ہونے کے علاوہ برآمدی کنسائنمنٹ کی ترسیل بھی بری طری متاثر ہوگئی ہے، خاص طور پر زرعی اجناس کے کنٹینرز کی بروقت ترسیل نہ ہونے سے مقامی مارکیٹوںمیں غذائی اشیا کی کمی کاسامنا ہو سکتا ہے اور اس کا فائدہ منافع خوروں کوہوگا۔ عبداللہ ذکی نے کہا کہ گڈزکیریئر زکے نمائندوں نے شکایت کی ہے کہ کراچی فشریز کے باہر ٹرک اڈہ کسی بلڈر کو غیر قانونی طور پر الاٹ کر دیا گیا ہے جبکہ ایف بی آر نے ایڈوانس انکم ٹیکس کی شرح میںبارہا استدعا کے باجود کسی قسم کی کمی نہیں کی، جاری ہڑتال نہ صرف صنعتکاروںبلکہ معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب کرے گی۔ انہوں نے گڈز کیریئر کے نمائندوں کو مشورہ دیا کہ ان کے جو بھی مسائل ہیں،چاہے وہ ایف بی آر، کے پی ٹی یا پھر پولیس سے متعلق ہوں ہر مسئلے کو گفت وشنید سے حل کیاجاسکتاہے مگر ہڑتال پر چلے جانا دانشمندی نہیں۔ انہوں نے کہاکہ کراچی چیمبراس قسم کی ہڑتالوں کی کبھی حمایت نہیں کرتا، صرف اور صرف بات چیت کے لیے ہی تعاون پیش کیاجا سکتا ہے اور اس سلسلے میں کراچی چیمبر کا پلیٹ فارم بھی فراہم کرنے کیلیے تیار ہیں تاکہ گڈز ٹرانسپورٹرز کے مسائل کاحل نکالا جا سکے۔
تبصرے بند ہیں.