خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں پشاور روڈ پر پرانی پولیس لائن میں نماز جمعہ کے دوران دھماکے کے نتیجے میں اب تک 7 افراد جاں بحق ہوگئے۔ریسکیو 1122 کے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے دوران اب تک 30 سے زائد زخمیوں اور 7 جاں بحق افراد کو ریسکیو 1122 کی ایمبولینسز کے ذریعے اسپتال منتقل کیا گیا۔جائے وقوعہ پر جاری سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں 14 ایمبولینسز، ریسکیو ویکلز، ریکوری وہیکل سمیت 45 سے زائد ریسکیو اہلکار حصہ لے رہے ہیں۔حکام نے کہا کہ پولیس لائنز کے احاطے میں پولیس اور سی ٹی ڈی کا فتنہ الخوارج سے مقابلہ جاری ہے، ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکے کے بعد ایک خود کش حملہ آور نےسپیشل برانچ بلڈنگ کے قریب خود کو دھماکے سے اڑایا، اب تک ایک دہشتگرد سنائپر مقابلے میں جہنم واصل ہوچکا ہے، آپریشن تاحال جاری ہے۔موصولہ اطلاعات کے مطابق دھماکے میں 5 پولیس اہلکار اور 11 سویلین شہید ہوئے ہیں۔آئی جی پی نے کہا کہ فتنہ الخوارج کے مکمل خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا، خیبرپختونخوا پولیس کے حوصلے بلند ہیں، دہشتگردوں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔کوہاٹ پولیس لائنز مسجد پر دھماکے کے بعد 7 مسلح دہشتگردوں نے پولیس لائنز میں دراندازی کی، پولیس اور سی ٹی ڈی نے دہشتگردوں کا بھرپور مقابلہ کیا، ابتدا میں دہشتگردوں کے اسنائپر کو جہنم واصل کر دیا گیا۔اب تک کی اطلاعات کے مطابق خود کش بمبار اور سنائپر سمیت 6 دہشتگرد جہنم واصل ہو چکے ہیں، دہشتگردوں کے خلاف کلیئرنس آپریشن آخری مراحل میں داخل ہو گیا ہے۔آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس دہشتگردوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔
تبصرے بند ہیں.