پاکستان سے بھارت، ویت نام اور انڈونیشیا کے بعد چین، تائیوان، فلپائن، بنگلہ دیش اور تھائی لینڈ کو روئی کی برآمدات شروع ہوگئیں۔ رواں سال پاکستان سے روئی کی ریکارڈ برآمدات ہونے کی توقع جبکہ روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں مسلسل اضافے کے باعث سوتی دھاگے کی برآمدات میں بھی خاطر خواہ اضافے کا رجحان شروع ہونے سے ملک بھر میں روئی کی قیمتوں میں زبردست تیزی کا رجحان دیکھا جارہا ہے۔ پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) کے سابق ایگزیکٹو ممبر احسان الحق نے بتایا کہ رواں سال پاکستان میں بین الاقوامی معیار کے مطابق روئی تیار ہونے سے روئی درآمد کرنے والے بیشتر ممالک نے پاکستان سے روئی درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے باعث یکم جولائی 2013 سے 15اگست تک ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹی ڈی اے پی)کے پاس 63ہزار سے زائد روئی کی بیلز کی برآمد کے لیے رجسٹریشن ہو چکی ہے۔جن میں سے سب سے زیادہ رجسٹریشن تائیوان کے لیے 21ہزار 334بیلز، ویت نام کے لیے 12ہزار 327 بیلز، بھارت کے لیے 7ہزار 300بیلز، انڈونیشیا کے لیے 6ہزار 600بیلز، بنگلہ دیش کے لیے 4 ہزار880 بیلز جبکہ چین کے لیے 10ہزارروئی کی بیلز کی برآمد کے لیے رجسٹریشن ہو چکی ہے جبکہ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ آئندہ چند روز کے دوران پاکستان سے ان ممالک کو روئی کی برآمد کے لیے مزید رجسٹریشن بھی ہو گی۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں جاری بارشوں، محکمہ موسمیات کی جانب سے ستمبر میں گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ بارشوں اور روپے کے مقابل ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث پاکستانی ٹیکسٹائل ملز مالکان نے بھی روئی خریداری میں خاطر خواہ اضافہ کر دیا ہے۔ جس کے باعث گزشتہ ایک ہفتے کے دوران روئی کی قیمتیں 300سے 400روپے فی من اضافے کے ساتھ 7ہزار سے 7 ہزار 100روپے فی من تک پہنچ چکی ہیں جبکہ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن میں بھی گزشتہ ایک ہفتے کے دوران روئی کے اسپاٹ ریٹ 300روپے فی من اضافے کے ساتھ 6ہزار 850روپے فی من تک پہنچ گئے ہیں۔ احسان الحق نے بتایا کہ اگر بارشوں اور سیلاب کے باعث پاکستان میں کپاس کی فصل کو نقصان پہنچا تو اس سے پاکستان سے روئی کی برآمدات متاثر ہو سکتی ہیںجبکہ اندرون ملک روئی کی قیمتوں میں اضافہ کا رجحان سامنے آ سکتا ہے۔
تبصرے بند ہیں.