اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی طرف سے ٹیکس چوروں کو بھجوائے جانیوالے نوٹس کی تعداد 10 ہزار ہوگئی۔ ایف بی آر نے ان ٹیکس چوروں کیخلاف کارروائی کا عمل مکمل کرنے کے حوالے سے تمام ریجنل ٹیکس دفاتر میںکمشنر براڈننگ آف ٹیکس بیس تعینات کردیے ہیں اورمجاز وذمے دار ریجنل ٹیکس آفسز کا بھی اعلان کردیا۔ ایف بی آر ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیکس چوروں کو نوٹس جاری کرنے سے ایف بی آرکی مقدمے بازی بڑھ جائیگی لیکن اگر ٹیکس چوروں کی سیاسی سطح پر پشت پناہی نہ کی گئی تو ریونیو میں بھی اچھا خاصا اضافہ ہوسکتا ہے۔ ایف بی آر کے سینیئر افسر نے بتایا کہ 24 لاکھ سے زائدنئے لوگوں کو ٹیکس نیٹ میںلانے کیلیے کمشنرز ہیڈ کوارٹرز براڈننگ آف ٹیکس بیس کی حدود اور اختیارات کا تعین بھی کردیا۔ رواں مالی سال کے اختتام تک ایک لاکھ ٹیکس چوروں کو نوٹس جاری کیے جائیں گے جنھیں نوٹس جاری کیے جارہے ہیں ان نان فائلرز سے انکا ماضی کا ریکارڈ مانگا جاسکتا ہے۔انکے بینک اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ موٹر رجسٹریشن اتھارٹی سے انکے پاس موجود گاڑیوںکی تفصیلات حاصل کی جاسکتی ہیں، مذکورہ افسر نے بتایا کہ جن 10 ہزار امیر ترین لوگوں کو نوٹس جاری کیے گئے ہیںوہ پوش علاقوں میں مقیم ہیں اور ایک سے زائد بینک اکاؤنٹس رکھتے ہیں اورانکے بچے ملکی وغیر ملکی مہنگے ترین اداروں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ آر ٹی اوز کیطرف سے نان فائلرزکو جاری نوٹس میں 30 دن کی مہلت دی گئی ہے جبکہ نان فائلرز کیخلاف 90 سے 120 دن میں کارروائی مکمل کی جائیگی۔
تبصرے بند ہیں.