اسلام آباد:نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدہ فوری طور پر بحال کرے، پانی کو بطور ہتھیار بنانا عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود دیرینہ تنازع ہے۔کروشیا کے وزیر خارجہ کے ہمراہ پریس نیوز کانفرنس کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ کروشیا کے وزیر خارجہ اور ان کے وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہتے ہیں، کروشیا کے وزیر خارجہ کا دورہ دوطرفہ تعلقات کے فروغ میں اہم سنگ میل ہے، یہ طویل عرصے بعد کروشیا کی جانب سے پاکستان کا اعلیٰ سطح کا دورہ ہے، جو دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کروشیا کے درمیان خیر سگالی اور باہمی اعتماد کے مضبوط روابط موجود ہیں، دونوں ممالک میں سیاسی، اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو نئی جہت دینے پر اتفاق ہوا، تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، ثقافت، دفاع سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھایا جائے گا، دونوں ممالک کے درمیان دہرے ٹیکس سے بچاؤ کے معاہدے پر پیشرفت کی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں کروشین ویزا پراسیسنگ سہولت کے قیام کیلئے کوششیں جاری ہیں، کروشیں ویزا کیلئے پاکستان کو کسی تیسرے ملک جانے کی زحمت سے نجات ملنی چاہیے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور کروشیا کے درمیان دوطرفہ تجارت میں اضافہ خوش آئند ہے، باہمی تجارتی حجم میں مزید اضافے کیلئے نجی شعبے کے روابط کو فروغ دیا جائے گا، پاکستان میں کروشین کمپینوں کی موجودگی اور کاروباری دلچسپی کا خیرمقدم کرتے ہیں، کروشیا پاکستان کی سرمایہ کار دوست پالیسیوں سے فائدہ اٹھائے۔اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ زراعت اور تحقیق کے شعبوں میں اداروں کے درمیان تعاون مضبوط بنایا جائے گا، رابطہ کاری، پائیدار ترقی اور اقتصادی انضمام مشترکہ وژن کا اہم حصہ ہیں۔انہوں نے کہا کراچی بندرگاہ خطے میں تجارت اور رابطہ کاری کے فروغ کی صلاحیت رکھتی ہے، دونوں ممالک کی بندرگاہوں کے درمیان تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے، دوطرفہ معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کو جلد حتمی شکل دینے پر اتفاق ہوا۔نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جی ایس پی پلس سکیم پاکستان اور یورپی یونین کے اقتصادی تعاون کا اہم ستون ہے، پاکستان 2027 میں جی ایس پی پلس کیلئے دوبارہ درخواست دینے کی تیاری کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ہنر مند افرادی قوت کیلئے قانونی روزگار کے مواقع بڑھانے پر اتفاق ہوا، انسانی سمگلنگ اور غیرقانونی ہجرت کے خاتمے کیلئے مشترکہ اقدامات ناگزیر ہیں، پاکستان اور کروشیا اقوام متحدہ کے منشور، خودمختاری اور تنازعات کے پرامن حل کے اصولوں پر یقین رکھتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ کروشیا نے سلامتی کونسل میں پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو سراہا ہے، عالمی فورمز پر پاکستان اور کروشیا کے مؤقف میں نمایاں ہم آہنگی پائی جاتی ہے، کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود دیرینہ حل تنازع ہے اسحاق ڈار نے کہا کہ بھارت کو فوری طور پر سندھ طاس معاہدے کی مکمل بحالی یقینی بنانی چاہیے، پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی خلاف ورزی ہے، بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کا اعلان کیا گیا۔وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ حالیہ ایران اسرائیل کشیدگی میں کمی کیلئے پاکستان نے مذاکرات کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت خطے میں امن کے فروغ کی اہم پیشرفت ہے، کروشیاں نے علاقائی امن کیلئے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا ہے، یوکرین سمیت تمام تنازعات کا حل مذاکرات اور عالمی قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔نائب وزیراعظم نے مزید کہا کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد تنظیمیں پاکستان کی سلامتی کیلئے مسلسل خطرہ ہیں، افغان سرزمین کسی بھی ملک خصوصاً پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے، دہشت گردی کی ہر شکل اور مظہر کی غیر مبہم الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، عالمی برادری کو دہشت گردی کے خاتمے کیلئے مشترکہ کوششیں تیز کرنا ہوں گی۔کروشین وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی شاندار مہمان نوازی کے شکر گزار ہیں، آپ کی کروشیا آمد کی میزبانی کرنا میرے لئے باعث مسرت ہوگا، اسلام آباد خوبصورت اور امن کا شہر ہے، پاکستان اور کروشیا کے تعلقات باہمی احترام اور اعتماد کی بنیاد پر استوار ہیں، دورہ پاکستان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک میں تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے پر اتفاق ہوا، ٹیکنالوجی، خدمات، صحت، ٹیکنالوجی و سیاحت میں تعاون کے امکانات موجود ہیں، کروشیا یورپی منڈیوں تک رسائی کیلئے اہم جغرافیائی حیثیت رکھتا ہے، کثیرالجہتی نظام اور اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں کی حمایت کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ علاقائی اور عالمی امن و استحکام کے فروغ کیلئے مشترکہ کوششیں ضروری ہیں، پاکستانی شہریوں کیلئے ویزا درخواست کا عمل آسان بنانے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔کروشین وزیرخارجہ نے کہا کہ جنگ کے دوران پاکستان کے تعمیری کردار اور روابط کو سراہتے ہیں، سلامتی کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے مسلسل مکالمہ ناگزیر ہے، پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، کروشیا عالمی امن مشنز میں فعال کردار ادا کرتا رہے گا۔
تبصرے بند ہیں.