ٹوئنٹی20 چیمپئنز لیگ میں فیصل آباد وولفز کی شرکت پر بھارتی بورڈ نے پاکستان کو واضح یقین دہانی کرانے سے انکار کر دیا۔ گیند حکومت کے کورٹ میں ڈالتے ہوئے رواں ماہ کے آخر تک انتظار کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے، پی سی بی نے صورتحال دیکھتے ہوئے ویزے کیلیے پاسپورٹس جمع کرانے کا ارادہ موخر کر دیا، دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے سبب مصباح الیون کا سرحد پار کرنا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پاک بھارت تعلقات موسم کی طرح تبدیل ہوتے رہتے ہیں،کافی عرصے تک بہتری کی وجہ سے دسمبر ، جنوری میں پاکستانی ٹیم نے پڑوسی ملک کا دورہ کر کے محدود اوورز کے میچز میں بھی حصہ لیا، اس وقت یہ لگتا تھا کہ ممبئی حملوں کے بعد چھایا جمود ختم ہونے والا ہے، ایسے میںگزشتہ ماہ بی سی سی آئی نے چیمپئنز لیگ کوالیفائنگ کا شیڈول جاری کرتے ہوئے پاکستانی ڈومیسٹک فاتح سائیڈ فیصل آباد وولفز کو بھی شامل کیا، ایونٹ کے میچز17ستمبر سے6اکتوبر تک ہونے ہیں۔ اچانک چند روز قبل سرحدی کشیدگی نے باہمی تعلقات دوبارہ بگاڑ دیے،دونوں طرف سے تند وتیز بیانات سے کرکٹ کا متاثر ہونا بھی یقینی تھا اور یہی ہوا، اب ایسا دکھائی دیتا ہے کہ فیصل آباد وولفز کو بھارت جانے کا موقع نہیں ملے گا، ذرائع کے مطابق میڈیا رپورٹس دیکھنے کے بعد جب پی سی بی نے بی سی سی آئی سے رابطہ کیا تو اس نے واضح یقین دہانی کرانے سے گریز کیا، گیند اپنی حکومت کے کورٹ میں ڈالتے ہوئے رواں ماہ کے آخر تک انتظار کا مشورہ دیا گیا ہے، ایک اعلیٰ آفیشل نے پاکستانی حکام سے کہا کہ ان کا گورنمنٹ سے رابطہ ہے جیسے ہی کوئی واضح ہدایت ملی ضرور آگاہ کریں گے، ہم نے ’’دیکھو اور انتظار کرو‘‘ کی پالیسی اپنائی ہوئی ہے۔دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھی صورتحال کی نزاکت دیکھتے ہوئے پلیئرز کے پاسپورٹ تاحال ویزے کیلیے بھارتی سفارتخانے میں جمع نہیں کرائے، ذرائع نے بتایا کہ فیصل آباد وولفز کے بیشتر پلیئرز کے پاسپورٹس ہمیں موصول ہو چکے ہیں، ان کے کوائف بھارت بھیج دیے ، جیسے ہی گرین سگنل ملا ویزے کیلیے جمع کرا دیں گے۔ یاد رہے کہ حیدرآباد دکن میں شیڈول چیمپئنز لیگ کوالیفائنگ رائونڈ کی 2ٹیمیں مین ایونٹ میں رسائی حاصل کریںگی، فیصل آباد وولفز کے ساتھ آئی پی ایل سائیڈ سن رائزرز حیدر آباد، نیوزی لینڈ کی اوٹاگو وولٹس اور سری لنکن ڈومیسٹک چیمپئن ٹیم کو بھی قسمت آزمائی کا موقع ملے گا۔ دوسری جانب پاکستانی کرکٹ حکام نے زمبابوین تنازع حل ہونے پر بھی سکھ کا سانس لیا ہے، جمعے کو کئی بار ہرارے میں مقامی آفیشلز سے رابطہ کر کے سیریز کے انعقاد پر یقین دہانی حاصل کی گئی، ذرائع نے بتایا کہ زمبابوے کرکٹ کے حکام نے پاکستان پر واضح کر دیا تھا کہ ویسے تو معاملات حل ہونے کی امید ہے لیکن اگر ایسا نہ ہو سکا تو ہمارے پاس 3،4باغی کرکٹرز کو ہٹا کر نئے کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل کرنے کا آپشن موجود ہے، ان کا کہنا تھا کہ بیشتر پلیئرز مطالبات ماننے سے قبل بھی بغاوت ترک کرنے پر آمادہ تھے، ایسی صورتحال میں مزید کمزور ٹیم پاکستان کا سامنا کرتی، بورڈ کو پہلے ہی آسان حریف کیخلاف سیریز کیلیے مضبوط ترین اسکواڈ منتخب کرنے پر تنقید کا سامنا ہے، قطعی یکطرفہ سیریز اس میں اضافہ کرا دیتی، مگر تنازع حل ہونے سے یہ مشکل دور ہو گئی۔
تبصرے بند ہیں.