Latest National, International, Sports & Business News

کے ای ایس سی معیشت کے خلاف سازشیں بند کرے، تاجر اتحاد

کراچی: انتظامیہ اور پولیس کی سرپرستی میں شہر بھر میں 35ہزار سے زائد پتھارے لگادیے گئے جس سے رمضان کے لیے سرمایہ کاری کرنے والے دکانداروں کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ سندھ تاجر اتحاد کے چیئرمین جمیل احمد پراچہ نے کہا ہے کہ کراچی میں انتظامیہ کی جانب سے مارکیٹوں میں لگائے جانے والے 35 ہزار سے زائد غیر قانونی ٹھیلوں سے تاجر برادری کو رمضان کے آخری دو عشروں کے درمیان 17 ارب جبکہ امن و امان کی مخدوش صورتحال کے باعث 40 فیصد مال گوداموں میں رہ گیا ہے۔ کراچی کی تجارتی سرگرمیوں کی بحالی سے قبل کے ای ایس سی کی جانب سے شہر میں13گھنٹوں تک کی لوڈشیڈنگ کا اعلان کراچی کے ساتھ ساتھ ملک کی معیشت کو بھی تباہ کرنے کی سازش ہے۔ آزاد میڈیا پر حملوں کی سندھ تاجر اتحاد بھرپور مذمت کرتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو اتحاد کے مرکزی دفتر میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس سے اتحاد کے وائس چیئرمین کاشف صابرانی، جنرل سیکریٹری اسماعیل لال پوریہ، سلیم میمن، حبیب شیخ، راشد علی شاہ، مقصود احمد، جاوید عبداللہ، سلیم بٹلہ، محمد ارشد، حسین قریشی، ایوب نظامی اور دیگر بھی موجود تھے۔جمیل احمد پراچہ نے کہا کہ کراچی کی زیادہ تر مارکیٹوں میں رمضان المبارک کے دوران انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے غیر قانونی ٹھیلے لگوائے گئے اور اس کا براہ راست نقصان کروڑوں روپے کے انکم ٹیکس ادا کرنے والے مارکیٹ کے دکانداروں کو ہوا۔ انہوں نے کہا کہ رمضان کے آخری دو عشروں کے درمیان تاجروں کو17ارب سے زائد کا نقصان ہوا اور اس کے براہ راست ذمہ دار کراچی کی انتظامیہ اور پولیس ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ تاجر اتحاد نے ہمیشہ اور ہر پلیٹ فارم پر کراچی میں قیام امن کا مطالبہ کیا ہے اور رمضان المبارک کے دوران بھی ہم نے حکومت اور انتظامیہ سے مارکیٹوں اور شاپنگ سینٹرز میں سیکیورٹی فعال بنانے کا مطالبہ کیا تھا لیکن افسوس کہ حکومت سندھ اور کراچی کی انتظامیہ خواب خرگوش کے مزے لیتی رہی اور بھتہ خور اور دہشت گرد شہر میں آزاد گھومتے رہے۔ اجلاس میں کے ای ایس سی انتظامیہ کی جانب سے وفاق پر واجب الادا رقم کی ادائیگی کو جواز بنا کر شہر کے رہائشی، تجارتی اور صنعتی علاقوں میں آج (ہفتہ) سے 10 سے 13 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کے اعلان پر اپنے شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا اور کے ای ایس سی انتظامیہ کو متنبہ کیا گیا کہ وہ کراچی کی معیشت کو تباہ کرنے کی سازشوں سے باز رہے اور شہر کے دو کروڑ عوام کی جانب سے بلوں کی بروقت ادائیگی کے باوجود انہیں لوڈشیڈنگ کے عذاب میں مبتلا کرنے کا سلسلہ بند کرے، بصورت دیگر کراچی کے عوام اور تاجر مل کر اس کے خلاف بھرپور احتجاج کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ اجلاس میں شامل تاجر رہنماؤں نے وفاقی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ کراچی میں کے ای ایس سی انتظامیہ کی اجارہ داری ختم کی جائے اور کراچی میں بجلی کی پیداوار اور اس کی ترسیل کے لیے دیگر کمپنیوں کو بھی لایا جائے۔

Comments

comments

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.