کراچی: کراچی اسٹاک ایکسچینج میں رواں کاروباری ہفتے کا اختتام مایوس کن انداز میں ہوا اورگزشتہ کئی روز سے جاری تیزی کے بعد جمعہ کو مارکیٹ میں مندی کا رجحان رہا۔ کاروبار کا آغازتیزی سے ہوا اور سرمایہ کاروں کی جانب سے بینکنگ ومالیاتی اداروں، سیمنٹ، فرٹیلائزراور دیگر سرگرم سیکٹر میں زبردست خریداری کی وجہ سے ایک موقع پر 100انڈیکس23700 اور 23800 کی نفسیاتی حدوں کو عبور کرتا ہوا23819 پوائنٹس پر بھی پہنچا لیکن ملک میں جاری دہشت گردی ،قتل وغارتگری کی نئی لہرنے سرمایہ کاروں کو محتاط کردیا جس سے پرافٹ ٹیکنگ کا رجحان غالب رہا اور مارکیٹ گراوٹ کا شکار ہو گئی۔ کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 14.59 پوائنٹس کی کمی سے 23673.30 پوائنٹس پر بند ہوا۔ جبکہ کے ایس ای 30 انڈیکس بھی 19.00 پوائنٹس کی کمی سے 18402.28 پوائنٹس, کے ایس سی آل شیئر انڈیکس میں 14.55 پوائنٹس کی مندی سے16953.67 پوائنٹس پر بند ہوا البتہ کے ایم آئی 30 انڈیکس میں 23.82 پوائنٹس کی تیزی سے 40810.76 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔ مارکیٹ سرمائے میں مندی کی وجہ سے5 ارب روپے سے زائد کا خسارہ ہوا۔ مارکیٹ میں مجموعی طور پر 356 کمپنیوں کے حصص کا لین دین ہوا جن میں سے 175 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں تیزی رہی اور 163 کمپنیوں کے حصص کے بھاؤ میں مندی دیکھی گئی جبکہ 18 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں استحکام رہا۔مجموعی طور پر 15 کروڑ 25 لاکھ 36 ہزار 280 حصص کا کاروبار ہوا جبکہ جمعرات کو18 کروڑ 9 لاکھ 31 ہزار 160 شیئرز کے سودے ہوئے تمارکیٹ کیپیٹل 5 ارب 6 لاکھ 12 ہزار 473 روپے کم ہو کر 58 کھرب 29 ارب 45 کروڑ 4 لاکھ 46 ہزار 294 روپے ہو گیا۔ سب سے زیادہ تیزی رفحان میز کے حصص کی قیمتوں میں ہوئی جس کے حصص کی قیمت 259.05 روپے کے اضافہ سے 5459 روپے پر بند ہوئی۔ اسی طرح یونی لیور فوڈز کے حصص کی سودے بھی 190 روپے کی تیزی سے 5290 روپے پر بند ہوئے۔ سب سے زیادہ مندی ویتھ پاک لمیٹڈ اور کلیرینٹ پاک کے حصص کی قیمتوں میں ہوئی۔ ویتھ پاک لمیٹڈ کے حصص کی قیمت 121.95 روپے کی مندی سے 2317.05 روپے اور کلیرینٹ پاک کے حصص کی قیمت بھی 18.21 روپے کی کمی سے 346.11 روپے رہ گئی۔ سب سے زیادہ کاروبار بینک آف پنجاب کے حصص میں ہوا جو 1 کروڑ 51 لاکھ 80 ہزار شیئرز رہا جس کی قیمت 14 روپے سے شروع ہو کر 13.69 روپے پر بند ہوئی۔
تبصرے بند ہیں.