ڈنمارک نے پاکستان کو توانائی بحران سے نمٹنے کیلیے تعاون کی پیشکش کر دی
پاکستان میں اقتصادی ترقی اور تجارت کو فروغ دینے کے وسیع مواقع موجود ہیں جن سے استفادہ حاصل کرنے کے لیے ڈنمارک پاکستان کے ساتھ توانائی سمیت کئی دوسرے شعبوں میں تعاون کا خواہش مند ہے تا کہ دونوں ممالک کے مابین باہمی تجارت اور معاشی تعلقات کو مزید بہتر کیا جا سکے۔ ان خیالات کااظہار پاکستان میں نئے تعینات ہونے والے ڈنمارک کے سفیر جیسپر مولر سورنسن نے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے اپنے پہلے دورے کے موقع پر تاجر برادری سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ ان کا چیمبر آنے کا مقصد تاجر برادری کے ساتھ تبادلہ خیال کر کے مشترکہ تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈنمارک کے پاس ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی اعلیٰ ٹیکنالوجی موجود ہے جبکہ صنعتی و اقتصادی ترقی کیلیے پاکستان کو توانائی کی اشد ضرورت ہے جس کی وجہ سے آنے والے برسوں میں پاکستان کے توانائی شعبے میں بے شمار سرمایہ کاری متوقع ہے لہٰذا ڈنمارک کی متعدد کمپنیاں پاکستان کے توانائی شعبے میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سرمایہ کار آگے بڑھیں اور ڈنمارک کے سرمایہ کاروں کے ساتھ پارٹنرشپس قائم کرنے کی کوشش کریں تا کہ پاکستان توانائی بحران پر قابو پا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ڈنمارک کے درمیان توانائی کے متبادل ذرائع، لائف سائنسز، انرجی ایفشنی، فوڈ پراسسنگ، ٹیکنالوجی، زراعت، صحت و تعلیم ، یوتھ ڈیولپمنٹ اور ویمن امپاورمنٹ سمیت متعدد شعبوں میں مشترکہ تعاون کی عمدہ گنجائش پائی جاتی ہے لہٰذا دونوں ممالک ان شعبوں میں تعلقات کو بہتر کرنے کے لیے کوششیں تیز کریں۔ ڈنمارک کے سفیر نے کہا کہ ڈنمارک کے پاس جدید ایڈوانس ٹیکنالوجی موجود ہے جبکہ پاکستان کے پاس بہترصلاحیت والی سستی افردی قوت پائی جاتی ہے لہذا دونوں ممالک کو چاہیے کہ وہ نجی شعبوں کے درمیان براہ راست روابط استوار کر کے ایک دوسرے کی ضروریات پوری کریں۔ انہو ں نے کہا کہ پاکستان کو چاہیے کہ وہ سرمایہ کاری کی 10ٹھوس وجوہ فراہم کرے تاکہ وہ ڈنمارک کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کریں۔ڈنمارک کے سفیر نے کہا کہ ڈنمارک ایمبسی میں کمرشل سیکشن کھولنے کے لیے انہوں نے اپنی حکومت سے اجازت لے لی ہے جس سے دونوں ممالک کے مابین تجارتی اور معاشی تعلقات کو ترقی دینے میں مدد ملے گی ۔انہوں نے کہا کہ ڈنمارک کی حکومت پانچ سالہ منصوبہ کے تحت پاکستان میں ازسرنو تعمیرات، بحالی کے کاموں، تعلیم اور دوسرے ترقیاتی شعبوں میں مدد فراہم کرے گی