Latest National, International, Sports & Business News

زمبابوے کو کمزور حریف تصور نہیں کرتے، معین خان

دورؤ زمبابوے پر روانگی سے قبل انجانا خوف پاکستان ٹیم کے سر پر سوار ہے، منیجر معین خان نے خبردار کیا ہے ورلڈ کپ 1999 میں بنگلہ دیش کے ہاتھوں اپ سیٹ شکست ابھی تک نہیں بھولی۔ اس وقت میں نائب کپتان تھا، میچ کے بارے کئی شکوک شبہات پیدا کرنے کی کوشش کی گئی، اب کسی بھی حریف کو کمزور سمجھنے کی غلطی نہیں کرسکتے، بہترین کرکٹرز کا انتخاب کیا گیا ہے، سینئرز کو فارم دکھانے اور جونیئرز کو اپنی جگہ بنانے کا موقع ملے گا، کھلاڑیوں میں احساس ذمہ داری جگانے کی کوشش کی ہے، پیار سے کام چل جائے تو سختی کی ضرورت نہیں پڑتی، تمام پلیئرز سمجھدار ہیں، امید ہے کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوگا، تاہم ڈسپلن کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کروں گا، باس ہونے کی ناطے ٹور کے دوارن جہاں ضروری سمجھا سلیکشن اور دیگر معاملات میں مداخلت کروں گا، فی الحال کوچ کی ذمہ داری قبول کرنے کے حوالے سے کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ ٹیم کمزور حریف زمبابوے کے خلاف میدان میں اترنے سے قبل ہی ایک انجانے خوف کا شکار ہے،کوچ ڈیوواٹمور حد سے زیادہ خود اعتمادی کے سبب کارکردگی میں عدم تسلسل کو خطرہ قرار دے چکے ، گذشتہ روز نیشنل کرکٹ اکیڈمی میںمیڈیا سے بات کرتے ہوئے منیجر معین خان بھی اسی تشویش میں مبتلا نظر آئے، انھوں نے کہا ورلڈ کپ 1999 میں بنگلہ دیش کے ہاتھوں اپ سیٹ شکست مجھے ابھی تک یاد ہے،اس وقت میں نائب کپتان تھا، ایک کمزور ٹیم سے ہار کسی کو ہضم نہیں ہوئی، میچ کے بارے کئی شکوک شبہات پیدا ہوئے اور طرح طرح کے سوالات اٹھائے گئے، اب کسی بھی حریف کو کمزور سمجھنے کی غلطی نہیں کرسکتے، اگرچہ سلیکشن معاملات سے میرا تعلق نہیں تاہم میری نظر میں دورہ زمبابوے کیلیے بہترین کرکٹرز کا انتخاب کیا گیا ہے، ڈومیسٹک کرکٹ میں عمدہ پرفارم کرنے والوں کو مواقع فراہم کرنا اچھا اقدام ہے، یہ سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رہنا چاہیے، سینئرز کو فارم دکھانے اور جونیئرز کو اپنی جگہ بنانے کا موقع ملے گا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سخت تنقید ضرور کرتا رہا ہوں، اب بھی کچھ غلط ہوگا تو ایسا ہی کروں گا، تاہم میرے بارے میں سخت گیر ہونے کا تاثر درست نہیں، ٹیم کو کنٹرول کرنے کا کوئی طے شدہ فارمولا نہیں بنایا، صرف کھلاڑیوں میں احساس ذمہ داری جگانے کی کوشش کی ہے، پیار سے کام چل جائے تو کسی سختی کی ضرورت نہیں پڑتی، اصل چیز پرفارمنس ہے، غیر ضروری دباؤ کبھی بھی اچھا ثابت نہیں ہوتا، تمام پلیئرز سمجھدار اور انٹرنیشنل کرکٹ کے تقاضوں سے واقف ہیں، کیمپ کے دوران بھی بہترین ماحول میں ٹریننگ ہوئی کوئی شکایت سامنے نہیں آئی، امید ہے کہ ضابطہ اخلاق کے حوالے سے کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوگا، تاہم ڈسپلن کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کروں گا، سپاٹ فکسنگ جیسے سکینڈلز سامنے آنے کے بعد کرکٹرز اور منیجنٹ کو انتہائی ذمہ دارانہ رویہ کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے، کسی نوعیت کی منفی سرگرمی دیکھنے میں آئی تو ایکشن لینے میں کوئی تاخیر نہیں ہوگی۔ ٹیم کے باس کے طور پر جارہا ہوں، ٹور کے دوران جہاں ضروری سمجھا سلیکشن اور دیگر معاملات میں مداخلت کروں گا۔ معین خان نے کہا کہ کوچ کی طرف سے اجازت ہوئی تو گراؤنڈ میں کھلاڑیوں کی مدد ضرور کروں گا، تاہم فی الحال کوچ کی ذمہ داری قبول کرنے کے حوالے سے کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا، کنٹریکٹ کے مطابق ابھی ٹیم کو ڈیو واٹمور کی خدمات حاصل ہیں،اس معاملے پر فی الحال بات کرنے کی ضرورت نہیں۔ ملک میں اچھے وکٹ کیپرز کی کمی کے سوال پر انھوں نے کہا کہ مسائل راتوں رات حل نہیں ہوتے، اکیڈمیز میں کئی باصلاحیت کرکٹرز موجود ہیں، انہیں گروم کرنے کیلیے وقت درکار ہوگا، میرے ساتھ راشد لطیف بھی نیا ٹیلنٹ سامنے لانے میں کامیاب ہوئے ہیں تاہم بڑے کرکٹرز برسوں میں تیار ہوتے ہیں۔

تبصرے بند ہیں.