Latest National, International, Sports & Business News

انو بھٹ کئی مواقع پر پی سی بی کا مہمان رہا، راشد کا انکشاف

سابق کپتان راشد لطیف نے مبینہ بکی انو بھٹ کے پاکستان کرکٹ بورڈ سے گہرے مراسم کا انکشاف کیا ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیاکہ دانش کنیریا کیس کا اہم کردار کئی مواقع پر پی سی بی کے مہمان رہا اور ٹیم کے ساتھ غیرملکی دورے بھی کیے، ان خیالات کا اظہار انھوں نے ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو میں کیا۔ واضح رہے کہ انگلش بورڈ نے لیگ اسپنر دانش کنیریا پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ مبینہ بھارتی بکی انو بھٹ کیلیے کام کرتے اور اسی کی ایما پر کرکٹر میرون ویسٹفیلڈ کو اپنے دام میں پھنسایا، اس کیس میں کنیریا کو تاحیات پابندی کی سزا دی گئی جس کے خلاف اپیل مسترد ہونے کے بعد اسپن بولر اب اسے برطانوی کمرشل ہائیکورٹ میں چیلنج کرچکے ہیں۔راشد لطیف نے کہاکہ مجھے انو بھٹ کا نام بھارتی بکیز کی فہرست میں کہیں نہیں ملا، سچ بات تو یہ ہے کہ وہ کئی مواقع پر پاکستان کرکٹ بورڈ کا مہمان رہ چکا ہے، جب بھارت اور انگلینڈ نے 2005 اور 2006 میں ٹورز کیے تو اس وقت بھی وہ پی سی بی کی مہمان نوازی سے لطف اندوز ہوا،بعد میں جب ٹیم سری لنکا، جنوبی افریقہ اور ویسٹ انڈیز گئی اس وقت بھی انو بھٹ ساتھ تھا۔ راشد لطیف نے ایسیکس اور ڈرہم کے درمیان 2009 میں کھیلے گئے اس پرو 40 میچ کو بھی مشکوک قرار دیا جس میں میرون ویسٹفیلڈ اور دانش کنیریا پر اسپاٹ فکسنگ کا الزام ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ معاملہ اسپاٹ نہیں بلکہ میچ فکسنگ کا دکھائی دیتا ہے، ویسٹفیلڈ نے جوکیا سو کیا سوال یہ ہے کہ حریف ٹیم ڈرہم کیوں اتنے مشکوک انداز میں کھیلی؟ کپتان نے اپنے2اوپننگ بولرز سے پانچ سے زیادہ اوورز کیوں نہیں کرائے؟ اوپننگ بولنگ گڈ مین نے پانچ اوورز میں 24 جبکہ کلیڈون نے 27 رنز دیے مگر کپتان نے ساتویں بولر کے طور پر بروتھ وک کا انتخاب کیا، جنھوں نے 4.5 اوورز میں 63 رنز دیے، وہ ایک 19 سالہ آئرش آل رائونڈر تھے کیا انھیں پھنسانا زیادہ آسان نہ تھا؟۔ راشد لطیف نے کہا کہ جب انگلش بورڈ ایک میچ میں اسپاٹ فکسنگ کی تحقیقات کرسکتا ہے تو پھر آئی سی سی کو اس میچ کے فکسڈ ہونے کی بھی انکوائری کرنی چاہیے۔

Comments

comments

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.