اسلام آ باد: وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمٰن نے واضح کیا ہے کی ای گورنمنٹ کے منصوبوں میں تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائیگی اور تاخیر کا باعث بننے والے ہر ذمے دار کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ پاکستان کمپیوٹر بیورو (پی سی بی) اور الیکٹرانک گورنمنٹ ڈائریکٹریٹ (ای جی ڈی) کے اچانک دورے کے موقع پر انھوں نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب وہ وقت نہیں رہا کہ حکومتی اداروں میں کالی بھیڑوں اور ان کو تحفظ فراہم کرنے والوں کو کسی بھی صورت برداشت کیا جائے۔ وزیر مملکت نے پی سی بی اور ای ڈی جی کے ڈائریکٹراور ایڈیشنل سیکریٹری کو ہدایت کی کہ وہ جلد از جلد تمام تاخیر کا شکار ہونے والے پراجیکٹس کی انکوائری رپورٹ وزیر مملکت کے سامنے پیش کریں تا کہ تاخیر کا باعث بننے والے عناصر کی نشاندہی کر کے ذمے داری کا تعین کیا جا سکے۔وزیر مملکت نے کہا کہ یہ نہایت افسوس کی بات ہے کہ بہت سارے پراجیکٹس ایسے ہیں جن کی مکمل ادائیگیاں ہو چکی ہیں مگر وہ گراؤنڈ پر موجود نہیں ہیں حتیٰ کہ کمپیوٹر اور متعلقہ ہارڈویئر بھی غائب ہے، ان منصوبوں کے لیے عوام کی رقوم کا ضیاع کیا گیا ہے جومجرمانہ فعل ہے اور ذمے داری کا تعین ہونے پرذمے داران کے خلاف بھر پور کارروائی کی جائے گی۔ اپنے اس دورہ کے موقع پر وزیر مملکت نے پی سی بی کی نئی تعمیر شدہ بلڈننگ کا معائنہ کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کہ پی سی بی کو اپنی بلڈنگ میں نئے تعمیر شدہ فلور کی ضرورت تھی یا نہیں۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ اس قدر ناقص تعمیراتی میٹریل استعمال ہوا ہے کہ صرف چند مہینوں میں ہی عمارت کی مجموعی حالت خراب ہو چکی ہے اور کام ابھی تک نا مکمل ہے۔ وزیر مملکت نے اس دورہ کے موقع پر ممبر آئی ٹی عامر ملک کو ہدایت کی کہ وہ بدھ تک تمام انکوائری رپورٹس کی مکمل تفصیل ان کے سامنے پیش کریں جن میں چیف کمشنر آفس اسلام آباد، لینڈریونیو انفارمیشن سسٹم، پاکستان ریلوے اور شیخ زاہد اسپتال کے آٹومیشن کے پراجیکٹس شامل ہیں۔
تبصرے بند ہیں.