پاکستانی مصنوعات کو سری لنکا میں بھی نان ٹیریف رکاوٹوں کا سامنا

کراچی: سری لنکا کے ساتھ آزاد تجارت کے معاہدے کے باوجود پاکستانی مصنوعات کو سری لنکا میں بھی نان ٹیریف رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ پاکستان سے بڑے پیمانے پر آلو اور پیاز سری لنکا برآمد کی جاتی ہے تاہم سری لنکن حکام کی جانب سے مقامی کاشتکاروں کو تحفظ دینے کے نام پر پاکستانی پھل اور سبزیوں کی راہ میں نان ٹیریف رکاوٹیں کھڑی کرنا معمول بن گیا ہے۔ پیاز کی طرح اب آلو کے لیے بھی ایک نئی رکاوٹ کھڑی کردی گئی ہے سری لنکن حکام کی جانب سے 17مئی کو کیے گئے ایک فیصلے کے مطابق آلو کی درآمد کے لیے مقامی کاشتکاروں سے بھی آلو کی خریداری لازمی قرار دی گئی ہے۔ سری لنکن کاشتکاروں سے آلو خریدنے والے تاجروں کو ہی آلو کی درآمد کے پرمٹ جاری کیے جائیں گے۔اس فیصلے کا اطلاق کسی بھی وقت کیا جاسکتا ہے، جس سے سری لنکا کو پاکستان سے آلو کی برآمد میں دشواری کا سامنا کرنا پڑے گا۔ برآمد کنندگان کے مطابق پاکستان سے سری لنکا کو 10ہزار ٹن سے زائد آلو برآمد کیا جاتا ہے جس کی مالیت 25لاکھ ڈالر ہے، سری لنکن حکام کی جانب سے درآمدی پرمٹ کے لیے مقامی کاشتکاروں سے خریداری کی شرط کا مقصد سری لنکا کے کاشتکاروں کو تحفظ فراہم کرنا ہے، تاہم پاکستان کے ساتھ آزاد تجارت کے معاہدے کے باعث سری لنکا پاکستان کے لیے اس طرح کی شرط عائد نہیں کرسکتا، صرف آلو پیاز ہی نہیں سری لنکن حکام نے تاحال پاکستانی آم کے لیے بھی سری لنکن مارکیٹ بند کررکھی ہے اور سری لنکا کے قرنطینہ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے پاکستانی آم میں فروٹ فلائز کے خدشے کو جواز بناکر امپورٹ پرمٹ جاری نہیں کیے جاتے حالانکہ پاکستان سے یورپ، امریکا، جاپان، کوریا سمیت متعدد ترقی یافتہ ملکوں کو آم برآمد کیا جارہا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ سری لنکن حکام کی جانب سے پاکستانی آم کی درآمد کے لیے جس فروٹ فلائی کے خدشے کا اظہار کیا جارہا ہے وہ فروٹ فلائی پاکستان میں سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ پاکستان سری لنکا سے بڑے پیمانے پر چائے، انناس اور پان درآمد کرتا ہے اس کے علاوہ ناریل اور مصالحہ جات بھی سری لنکا سے درآمد کیے جاتے ہیں لیکن پاکستانی حکام کی جانب سے سری لنکن مصنوعات کے لیے کوئی امتیازی پالیسی اختیار نہیں کی گئی۔

تبصرے بند ہیں.