اسلام آباد (آئی این پی) قومی اسمبلی کی ذیلی کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں انکشاف ہوا کہ زرعی ترقیاتی بینک اور کمرشل بینکوں نے 500 ارب روپے کے سستے زرعی قرضے کسانوں کی بجائے صنعتکاروں کو دے دیئے ہیں، کسان زرعی قرضے کے حصول کےلئے بینکوں کے چکر لگاتے رہے جبکہ ان کے نام کے قرضے بڑی بڑی صنعتوں کے مالک لے اڑے، ذیلی کمیٹی کا توانائی کے شعبے کے سرکلرڈیٹ کی طرح 500 ارب کے زرعی قرضوں کا آڈٹ کرانے کا مطالبہ، ذیلی کمیٹی کے کنوینردانیال عزیز نے کہا کہ زرعی ترقیاتی بینک کسانوں کی مالی ضروریات پوری کرنے میں ناکام رہا ہے جس کی وجہ سے پاکستان آلو، پیاز، ٹماٹر ، لہسن اور ادرک سمیت غذائی اشیاءدرآمد کرنے پر مجبور ہے جبکہ زرعی ترقیاتی بینک کے 60 ارب روپے کے نا دہندہ قرضے جو بڑے بڑے لوگوں نے واپس نہیں کئے انہیں حکومت نے اسٹیٹ بینک کی ایکویٹی میں تبدیل کر دیا ہے۔ جمعہ کو قومی اسمبلی کی ذیلی کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس کنوینر دانیال عزیز کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا، جس میں ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ زرعی ترقیاتی بینک کی کارکردگی ناقابل بیان ہے، زرعی ترقیاتی بینک کے پاس ڈیپازٹ صرف ایک ارب روپے ہے جبکہ بینک 115 ارب روپے کے سالانہ قرضے جاری کرتا ہے، کنوینئر دانیا ل عزیز کا کہنا تھا کہ حکومت زرعی شعبے کو 500 ارب روپے کے زرعی قرضے فراہم کرنے بارے جھوٹ بول رہی ہے جبکہ بینکوں نے پرانے اعداد و شمار کو بھی زرعی قرضے میں شامل کر دیا ہے۔ اسٹیٹ بینک بتائے کہ 2014-15ءمیں زرعی قرضہ 390 ارب روپے سے بڑھا کر 500 ارب روپے کیسے کیا گیا حالانکہ آج بھی زرعی قرضے کا بیشتر حصہ صنعتکاروں کو دیا جا رہا ہے جبکہ نام کسانوں کا استعمال ہو رہا ہے۔ انہو ں نے کہا کہ یہ قرضہ کاشتکاروں کو دیا جاتا تو پاکستان آج غذائی ضروریات کی تکمیل کےلئے آلو، پیاز، ٹماٹر، ادرک، لہسن، ہری مرچ، سیب، کیلا، انگور۔ ناشپاتی و دیگر پھل درآمد کرنے پر مجبور نہ ہوتا۔ اگر ہم ملکی درآمدات کم کرنا چاہتے ہیں تو سستے قرضے صنعتکاروں کی بجائے کسانوں کو دینا ہوں گے۔ اس موقع پر ذیلی کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ توانائی کے شعبے میں ادا کئے گئے 500 ارب روپے کے سرکلر ڈیٹ کی طرح 500 ارب روپے کے زرعی قرضوں کا بھی خصوصی آڈٹ کرایا جائے۔ ذیلی کمیٹی کے ارکان کا کہنا تھا کہ زرعی ترقیاتی بینک کسانوں کی مالی ضروریات پوری کرنے میں ناکام رہا ہے، اس کو کسانوں کو بچانے والا بینک ہونا چاہیے۔ کنوینئر دانیال عزیز نے کہا کہ زرعی ترقیاتی بینک کی ری ا سٹریکچرنگ کا کسانوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوا جبکہ حکومت نے زرعی ترقیاتی بینک کے ڈوب جانے والے قرضے جو بڑے جاگیر داروں و سیاستدانوں کو دیئے گئے تھے اب اسٹیٹ بینک کی ایکویٹی میں تبدیل کر دیئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زرعی ترقیاتی بینک کو کمرشل بینکوں کی طرح مقابلہ کرنا چاہیے، ڈیپازٹ بڑھایا جائے اور نئے ایم سی او بھرتی کئے جائیں۔ آئندہ اجلاس میں کسانوں کے نمائندوں کو بلا کر ان کا موقف معلوم کروں گا۔
تبصرے بند ہیں.