کوئی بچ کے جانے نہ پائے، پرچون فروشوں کو بھی ٹیکس نیٹ میں لانے کی تیاریاں، کاسمیٹکس، سریا، سٹیل، سیمنٹ اور زرعی آلات پر ٹیکس کی شرح بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: ) نئے بجٹ میں درآمدی گاڑیوں پر 10 فیصد ایڈوانس ٹیکس عائد کئے جانے کا امکان ہے۔ سٹاک مارکیٹ، کاسمیٹکس، سریا، سٹیل، سیمنٹ اور زرعی آلات پر ٹیکس بڑھانے کی تجویز ہے۔ صدر، وزیراعظم، اعلیٰ عدلیہ کے ججوں سمیت بڑے عہدوں پر تعینات شخصیات کو آمدنی پر حاصل ٹیکس چھوٹ برقرار رہے گی۔ وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق مقامی سطح پر گاڑیوں کی خریداری پر اضافی ٹیکس لگایا جا سکتا ہے۔ پُرتعیش فور بائی فور گاڑیوں پر ٹیکس بڑھائے جانے کا امکان ہے۔ ہائی بِرڈ گاڑیوں کی درآمد پر ٹیکس رعایت برقرار رہے گی۔ 90 سے 100 ارب روپے مالیت کی ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی تجویز ہے۔ ایک لاکھ نئے لوگوں کو ٹیکس نوٹس بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سیلز ٹیکس کی شرح سنگل ڈیجٹ پر لانے کیلئے کمشن کا اعلان متوقع ہے جس سے تمام ٹیکس استثنیٰ ختم ہونے کا امکان ہے اور ڈھائی سو ارب روپے کی اضافی آمدنی مل سکتی ہے۔ نئے بجٹ میں سیلز ٹیکس 17 فیصد کی شرح پر برقرار رہے گا۔ 240 ارب روپے مالیت کے ٹیکس اقدامات بھی بجٹ میں شامل ہوں گے۔ سیلز ٹیکس رجسٹریشن پر انعامی سکیم شروع کرنے کی تجویز ہے۔ خدمات کے شعبے پر 10 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے۔ پرچون فروشوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے اقدامات تجویز کئے گئے ہیں۔ چارٹرڈ فلائٹس لینے والوں کیلئے ود ہولڈنگ ٹیکس 16 فیصد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ نئے مالی سال میں ترجیحی اور آزاد تجارتی معاہدوں پر بھی نظرثانی کی سفارش کی گئی ہے۔ بجلی گھروں پر سالانہ 70 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ برقرار رہنے کا امکان ہے۔ ادویات، سٹیشنری، ڈیری مصنوعات پر سیلز ٹیکس کی چھوٹ برقرار رہے گی۔ سٹاک مارکیٹ میں کیپٹل گین ٹیکس کو بڑھا کر ساڑھے بارہ فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ ائرکنڈیشن مشینری، آلات، کول سٹوریج مشینری، لگژری باتھ روم فٹنگ، کاسمیٹکس، سریا، سٹیل، سیمنٹ اور زرعی آلات پر ٹیکس کی شرح بڑھ سکتی ہے۔ کان کنی اور تیل وگیس کی تلاش کی مشینری اور آلات پر پانچ فیصد سیلزٹیکس لگ سکتا ہے۔ ٹیکس محاصل بہتر بنانے کیلئے ہوٹلز میں مشین نصب کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ ٹیکس گزاروں کو سالانہ قرعہ اندازی کے ذریعے انعامات دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ –
تبصرے بند ہیں، لیکن فورم کے قوائد اور لحاظ کھلے ہیں.