Latest National, International, Sports & Business News

بھارت کی نئی ریاست تلنگانا وجود میں آ گئی

بھارتیہ جنتا پارٹی نے اقتدار میں آتے ہی ملک میں ریاستوں کی تعداد 29 کر دی، نئی ریاست تلنگانا وجود میں آ گئی۔ 29 ویں ریاست تلنگانا کے پہلے وزیر اعلیٰ چندر شیکر رائو نے حلف اٹھا لیا۔

نئی دہلی: (، ویب ڈیسک) بھارت کی ریاست آندھرا پردیش باضابطہ طور پر دو حصوں میں تقسیم ہو گئی ہے اور اس میں سے ملک کی 29 ویں ریاست تیلنلگانہ وجود میں آئی ہے۔ تیلنلگانہ کا قیام اتوار اور پیر کی درمیانی شب کو بھارت کے مقامی وقت کے مطابق رات 12 بجے عمل میں آیا۔ تیلنگانہ ریاست آندھرا پردیش کے دارالحکومت حیدر آباد کے آس پاس کے دس اضلاع پر مشتمل ہے لیکن حیدر آباد آئندہ دس برس کے لئے دونوں ریاستوں کا مشترکہ دارالحکومت رہے گا۔ دس سال کے عرصے میں آندھر پردیش کو اپنا الگ دارالحکومت بنانا ہو گا۔ مقامی سیاسی جماعت تلنگانا راشٹر سمیتی نے نئی ریاست کے قیام کے لئے گزشتہ 14 سال تک تحریک چلائی اور نئی ریاست میں اس کی پہلی حکومت ہو گی۔ گزشتہ سال جولائی میں مرکز میں کانگریس کی سربراہی میں حکمراں اتحاد نے آندھرا پردیش میں نئی ریاست تیلنگانا کے قیام کی منظوری دی تھی اور اس کے بعد رواں سال فروری میں ملک کے ایوان بالا نے تیلنگانہ کے قیام کا بل منظور کیا تھا۔ اس فیصلے پر اس وقت آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ کرن کمار ریڈی احتجاجاً اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے۔ آندھرا پردیش کے شمالی اضلاع بشمول حیدر آباد پر مشتمل تیلنگانہ ریاست کے قیام کا مطالبہ 1956ء میں اس وقت سے کیا جا رہا تھا جبکہ تلگو بولنے والے مختلف علاقوں کو ملا کر آندھرا پردیش کی تشکیل عمل میں آئی تھی۔ تلنگانہ ریاست کے قیام کے مطالبے پر کئی بار پُرتشدد مظاہرے ہو چکے ہیں۔ ریاست اپنی تاریخ کے ایک بڑے حصے کے دوران ساحلی آندھرا کے زیادہ خوشحال اور بااثر طبقات کے کنٹرول میں رہی اور یہ شکایت عام رہی کہ انھوں نے غریب اور پسماندہ تیلنگانہ کے ساتھ معاشی سماجی اور دوسرے شعبوں میں انصاف نہیں کیا۔ چنانچہ وقفے وقفے سے تلنگانہ کو علیحدہ ریاست بنانے کا مطالبہ سر اٹھاتا رہا۔ 70-1969ء میں اس مسئلہ پر پُرتشدد احتجاج شروع ہوا جس میں 200 سے زیادہ لوگ مارے گئے۔ 2001ء میں یہ مسئلہ اس وقت پھر شدت کے ساتھ اٹھا جبکہ تلگو دیشم سے عیلحدگی اختیار کرنے والے چندر شیکھر رائو نے تلنگانہ راشٹر سمیتی کے نام سے اپنی الگ پارٹی بنائی اور تیلنگانہ کے لئے اپنی مہم کا آغاز کیا۔ رفتہ رفتہ یہ جماعت اتنی طاقتور ہو گئی کہ 2004ء کے انتخابات کے لئے کانگریس پارٹی کو اس علاقائی جماعت کے ساتھ اتحاد کرنا پڑا۔ بھارت میں اس سے پہلے آخری بار 2012ء میں تین نئی ریاستوں کا قیام عمل میں آیا تھا۔ ان میں مدھیا پردیش کے مشرقی علاقوں پر مشتمل چھتیس گڑھ کے نام سے نئی ریاست بنائی گئی۔ اتر پردیش کے پہاڑی علاقوں پر مشتمل اترا کھنڈ ریاست اور ریاست بہار کے جنوبی علاقوں پر مشتمل جھار کھنڈ ریاست کا قیام عمل میں آیا تھا۔ –

Comments

comments

تبصرے بند ہیں، لیکن فورم کے قوائد اور لحاظ کھلے ہیں.