بحیرہ روم میں کشتی ڈوبنے سے 23 افراد ہلاک، 700 کو بچالیا گیا

روم: 

بحیرہ روم میں کشتی ڈوبنے سے 23 افراد جاں بحق ہوگئے جب کہ 700 کو بچالیا گیا جن میں پاکستانی بھی شامل ہیں۔

کوسٹ گارڈ اٹلی کے ترجمان نے بتایا کہ بحیرہ روم میں کشتی الٹنے سے 23 تارکین وطن ڈوب گئے اور 700 سے زائد افراد کو بچالیا گیا۔ حادثے کا شکار تارکین وطن کا تعلق پاکستان، افریقہ، لیبیا، بنگلہ دیش، الجزائر، مصر، نیپال، مراکش، سری لنکا، یمن، شام، اردن، اور لبنان سے ہے۔

ترجمان کوسٹ گارڈ کا کہنا ہے کہ کشتی میں گنجائش سے زیادہ مسافر سوار تھے جو تند و تیز لہروں کی وجہ سے الٹ گئی۔ رواں ہفتے بحیرہ روم میں کشتیوں کو پیش آنے والے حادثے کے باعث انسانی زندگیوں کے ضائع ہونے کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔

واضح رہے کہ تارکین وطن کی بڑی تعداد لیبیا کے راستے غیرقانونی طور پر اٹلی پہنچتی ہے۔ حال ہی میں اطالوی حکومت نے لیبیا کے ساتھ معاہدہ کیا ہے جس کے تحت تارکین وطن کے لیبیا کے راستے اٹلی میں غیر قانونی داخلے پر پابندی عائد کردی گئی ۔ اس معاہدے کے بعد اٹلی پہنچنے والے تارکین وطن کی تعداد میں تیزی سے کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

Comments

comments

Share

Pin It

Comments are closed.