Latest National, International, Sports & Business News

مصباح آوٹ ، پھر بھی ہار ، کھلاڑیوں ، بورڈ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان

مصباح کو زبردستی آوٹ کر کے آفریدی کوکپتانی دی گئی ، جس کے باوجود ٹیم تیسرا ون ڈے ہار گئی ، اور ایک بار پھر ثابت ہوگیا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اور کھلاڑی ہر دو میں سے کسی کا فتح حاصل کرنے کا موڈ نہیں ہے۔

ابو ظہبی (نیٹ نیوز) عالمی میڈیا کے مطابق حیرت کی بات یہ ہے کہ ساڑھے تین سال سے بیٹنگ لائن کو حوصلہ دینے والے مصباح الحق کو جب خود حوصلے کی ضرورت پڑی تو ٹیم منیجمنٹ نے انہیں وہ دینے کے بجائے شاہد آفریدی کی قیادت میں ٹیم میدان میں اتاردی۔ ٹیم میں موجودگی اور کپتانی پر کئی لوگوں کو کھٹکنے والے مصباح الحق آسٹریلیا کے خلاف تیسرا ون ڈے نہ کھیلے لیکن پاکستانی ٹیم ان کی غیرموجودگی میں بھی ہارگئی۔ ایک رن کی ڈرامائی جیت کے ساتھ ہی آسٹریلیا نے نہ صرف تین میچوں کی سیریز میں کلین سوئپ کرلیا بلکہ عالمی ون ڈے رینکنگ میں پہلی پوزیشن بھی برقرار رکھی جو اس میچ میں شکست کی صورت میں اس کے پاس نہ رہتی۔ برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق مصباح کی غیرموجودگی کو ان کا اپنا فیصلہ بتایا گیا جس کا تعلق ان کی موجودہ مایوس کن بیٹنگ کارکردگی سے ہے حالانکہ یہ مایوسی صرف پانچ اننگز پر مشتمل ہے۔ پھونک پھونک کر قدم بڑھانے والے اسد شفیق نے بھی دس اننگز کے بعد پہلی نصف سنچری مکمل کرتے ہی فوکنر کو وکٹ دے دی ، اور کوئی کمال نہیں کیا۔ شاہد آفریدی آئے اور گئے ، اس نے اپنی روش نہ بدلی ، شائد اس نے وکٹ پر نہ ٹھہرنے کی قسم اٹھا رکھی ہے۔ تقریباً سال بھر کے بعد ون ڈے کھیلنے والے عمرامین کے ٹیلنٹ نے فیصلہ کن گھڑی میں دھوکہ دے دیا۔ پاکستان کو آخری اوور میں جیت کے لیے صرف دو رنز بنانے تھے لیکن میکسویل نے اسے ایسا کرنے سے باز رکھا اور آخری گیند پر عرفان کو آوٹ کر کے جیت پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔ میکسویل کے بارے تو ایسے لگتا ہے کہ وہ شائد باولر اتنا اچھا نہیں ہے لیکن پاکستانی بلے بازوں نے پے در پے اس کو وکٹیں تھما کر ایک باولر بنا ڈالا ہے۔ آل راونڈرز کے دور میں قومی ٹیم میں یا تو آل راونڈرز دکھائی نہیں دیتے یا پھر وہ ٹیم سے باہر ہیں اور جو کھیل رہے ہیں وہ یکسر ناکام ہیں۔ –

Comments

comments

تبصرے بند ہیں، لیکن فورم کے قوائد اور لحاظ کھلے ہیں.