کراچی: حکومت کی آٹو پالیسی سے پرزہ جات بنانے والی مقامی کمپنیوں کے ساتھ گاڑیوں کے درآمدکنندگان اور ڈیلرز بھی ناخوش ہیں۔
آل پاکستان موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن کی جانب سے پالیسی پر جاری ردعمل میں کہا گیا ہے کہ استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدی پالیسی میں کوئی ردوبدل نہیں کیا گیا جبکہ مقامی سطح پر تیار کی جانے والی گاڑیوں کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کو نظرانداز کرتے ہوئے مقامی اسمبلرز کے لیے ڈیوٹی کی شرح میں نمایاں کمی کی گئی ہے۔
ایسوسی ایشن کے چیئرمین ایچ ایم شہزاد کے مطابق گاڑیوں کے ڈیلرز نے پالیسی میں کوئی بڑی مراعات طلب نہیں کیں صرف استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد کی اجازت کا مطالبہ کیا تھا، جس طرح مقامی اسمبلرز مکمل تیار گاڑیاں درآمد کررہے ہیں۔
تبصرے بند ہیں، لیکن فورم کے قوائد اور لحاظ کھلے ہیں.